خبریںدنیا

۴۸ ٹیموں کی شرکت کے ساتھ فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا ایونٹ بننے کی جانب گامزن ورلڈ کپ ۲۰۲۶

عالمی کپ میں مسلم ممالک کی پوزیشن اور ان کی نمایاں کارکردگی کا جائزہ

ورلڈ کپ ۲۰۲۶، ٹیموں کی تعداد بڑھا کر ۴۸ کرنے، ۱۰۴ میچوں کے انعقاد اور تین ممالک کی مشترکہ میزبانی کے ساتھ، فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا اور عالمی ترین ٹورنامنٹ بننے کے قریب ہے۔

جبکہ ان مقابلوں کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم اکثریتی ممالک کی ٹیموں نے بھی مختلف ادوار میں نمایاں اور بعض اوقات تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

میرے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، جسے ہم ساتھ دیکھتے ہیں:

ورلڈ کپ ۲۰۲۶ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہوگا، اور ۱۶ شہروں میں ۱۰۴ میچوں کے ساتھ یہ اپنے آغاز سے اب تک کا سب سے بڑا عالمی کپ شمار ہوگا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، جو بین الاقوامی فٹبال فیڈریشن (فیفا) کے جاری کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہے، اس ٹورنامنٹ کے مجموعی مالی انعامات ۸۷۱ ملین ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ چیمپئن ٹیم کو ۵۰ ملین ڈالر دیے جائیں گے۔

یہ امر اس ایونٹ کے معاشی اور میڈیا پہلوؤں کے غیر معمولی پھیلاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

قطر میں منعقدہ ورلڈ کپ ۲۰۲۲ میں مسلم اکثریتی آبادی رکھنے والے چھ ممالک؛ ایران، سعودی عرب، قطر، تیونس، مراکش اور سینیگال نے شرکت کی تھی۔

ان میں مراکش نے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرکے اور چوتھی پوزیشن حاصل کرکے عالمی کپ کی تاریخ میں مسلم ممالک کی ٹیموں کی بہترین کارکردگی کا ریکارڈ قائم کیا۔

الجزیرہ اسپورٹس نے اپنی رپورٹ میں اس کامیابی کو افریقی فٹبال اور عالمِ اسلام کے لیے ایک تاریخی موڑ قرار دیا تھا۔

ورلڈ کپ ۲۰۲۶ میں، فیفا کی رپورٹ کے مطابق، مجموعی طور پر تقریباً ۱۶ مسلم اکثریتی ممالک کی شرکت متوقع ہے، جن میں ایران، سعودی عرب، قطر، عراق، اردن، ازبکستان، ترکیہ، مراکش، تیونس، الجزائر، مصر، سینیگال، نائجیریا، آئیوری کوسٹ، گھانا اور کیپ ورد شامل ہیں۔

یہ فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ میں مسلم ممالک کی سب سے وسیع شرکت شمار ہوگی، جو عالمی فٹبال میں ایشیا اور افریقہ کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتی ہے۔

گزشتہ ادوار میں بھی قابلِ توجہ نتائج سامنے آئے ہیں۔ ترکیہ نے ۲۰۰۲ کے کوریا-جاپان ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن حاصل کرکے مسلم اکثریتی ممالک کے لیے بہترین کامیابیوں میں سے ایک رقم کی تھی، جبکہ اسی ٹورنامنٹ میں سینیگال بھی کوارٹر فائنل تک پہنچا تھا۔

یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ عالمی فٹبال کے اعلیٰ ترین درجے پر ان ٹیموں کی موجودگی مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔

دوسری جانب، فیفا کی رپورٹس کے مطابق، ورلڈ کپ ۲۰۲۶ کو ۴۸ ٹیموں تک وسعت دینے سے ایشیا اور افریقہ کے ممالک کو زیادہ مواقع فراہم ہوئے ہیں۔ اس سے آئندہ عالمی کپ مقابلوں میں مسلم ممالک کی شرکت میں مزید اضافہ اور ٹورنامنٹ کے فنی و جغرافیائی تنوع میں وسعت پیدا ہونے کا امکان ہے۔

اسی طرح، رائٹرز سمیت بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والے تجزیوں کے مطابق، شمالی امریکہ کے تین ممالک کی مشترکہ میزبانی نے نہ صرف مقابلوں کے انتظامی اور لاجسٹک پہلوؤں کو زیادہ پیچیدہ بنایا ہے بلکہ عالمی سطح کے کھیلوں کے انعقاد کے لیے ایک نیا ماڈل بھی پیش کیا ہے۔

یہ اشتراکی ماڈل مختلف ممالک کی معاشی، بنیادی ڈھانچہ جاتی اور سیاحتی صلاحیتوں سے بیک وقت فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتا ہے، اور مستقبل میں عالمی کپ کے انتظام کے لیے ایک نئے معیار کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button