پاکستان

جماعت الاحرار کی سرگرمیاں اور دعوے: مسلح جدوجہد میں وسعت کا مؤقف

جماعت الاحرار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس کے بانی ارکان نے دعویٰ کیا تھا کہ تنظیم کا بنیادی مقصد پاکستان حکومت کے خلاف جاری مسلح کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے مطابق ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب ہزاروں افراد نے اس گروہ میں شمولیت اختیار کی۔

اطلاعات کے مطابق اس گروہ کی سرگرمیوں کا مرکز زیادہ تر مہمند ایجنسی اور اس کے ملحقہ علاقے رہے، جہاں اس کی قیادت کا تعلق بھی بتایا جاتا ہے۔ بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان کے کئی اہم کمانڈرز بھی جماعت الاحرار میں شامل ہوئے۔

یہ تنظیم پاکستان میں متعدد بڑے شدت پسند حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے جن میں سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button