
اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں شام میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی خبر دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ بعض اصلاحی اقدامات کئے گئے ہیں، لیکن عبوری عمل اب بھی نہایت نازک ہے اور یہ صورتحال قانون کی حکمرانی اور انسانی وقار پر مبنی ریاست کے قیام کے راستے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
ہمارے ساتھی رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے جسے ہم ساتھ دیکھتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی برائے شام نے اپنی نئی رپورٹ میں زور دیا ہے کہ اس ملک کے مختلف علاقوں، جن میں ساحلی علاقے، حمص، حماۃ، لاذقیہ اور طرطوس شامل ہیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے وابستہ اس کمیٹی نے اعلان کیا کہ اگرچہ عبوری انصاف کے لئے دو قومی ادارے قائم کئے گئے ہیں اور لاپتہ افراد کی تقدیر جاننے کے لئے اقدامات شروع کیے گئے ہیں، اسی طرح 2025 کے تشدد کے واقعات کے بارے میں داخلی تحقیقات بھی آغاز ہو چکی ہیں، تاہم سکیورٹی اور عدالتی نظام کی موجودہ صورتحال اب بھی ناکافی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، 2025 کے تشدد کے دوران ساحلی اور وسطی علاقوں میں 1400 سے زیادہ افراد جبکہ السویداء میں 1500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔
اقوامِ متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے خبردار کیا کہ ان میں سے بعض واقعات جنگی جرائم اور حتیٰ کہ انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں بھی آ سکتے ہیں۔
کمیٹی کے مطابق شامی حکومت نے 2025 کے تشدد میں ملوث ہونے کے الزام میں 14 افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ بھی چلایا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی کی گئی کہ سکیورٹی اداروں کی کارکردگی کی نگرانی اور ان کے ڈھانچے میں اصلاحات اب بھی ناکافی ہیں۔
جرمن نشریاتی ادارہ ڈوئچے ویلے فارسی کی رپورٹ کے مطابق، کمیٹی نے سکیورٹی اور عدالتی شعبوں میں وسیع اصلاحات، اسلحہ کے خاتمہ کے پروگراموں کے نفاذ، مسلح افواج کی تنظیمِ نو اور اہلکاروں کو انسانی حقوق کے احترام کی تربیت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ سزا سے استثنا کے کلچر کو ختم کرنا اور معاشرے اور سکیورٹی فورسز کے درمیان اعتماد کی بحالی شام میں ایک دہائی سے جاری تشدد کے سلسلے کو توڑنے کے لیے دو بنیادی شرائط ہیں۔
کمیٹی کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح تشدد کے سماجی اثرات اب بھی شہریوں کی روزمرہ زندگی پر گہرے سائے ڈالے ہوئے ہیں اور اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر خواتین اور بچے ہوئے ہیں۔
اس کے نتیجہ میں غربت میں اضافہ، اندرونی نقل مکانی اور خاندانوں پر نفسیاتی دباؤ بڑھ گیا ہے، جس سے سماجی بحالی کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سماجی تعمیرِ نو اور فوجی اہلکاروں میں انسانی حقوق کی تعلیم کے فروغ کے لیے عالمی برادری اور غیر سرکاری اداروں کی حمایت نہایت اہم ہے۔




