پھانسی، زیادتی، جنسی غلامی اور جنگی جرائم؛ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں ایتھوپیا میں اورومو لبریشن آرمی کی عورتوں اور بچوں کے خلاف وحشیانہ کارروائیوں کا انکشاف

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک تازہ رپورٹ میں ایتھوپیا کے اورومیا علاقے میں اورومو لبریشن آرمی کی طرف سے زیادتی، جنسی غلامی اور عام شہریوں کے قتل جیسے سنگین مظالم کو دستاویزی شکل میں پیش کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ یہ رویے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں میرے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نئی رپورٹ جس کا عنوان ہے "کوئی ہمیں بچانے نہیں آیا”، ایتھوپیا کے اورومیا علاقے میں ہونے والے وحشیانہ مظالم کے وسیع دستاویزی ثبوت پیش کرتی ہے۔
افریقن نیوز میں شائع رپورٹ کے مطابق، اس انسانی حقوق کی تنظیم کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ باغی گروہ اورومو لبریشن آرمی (OLA) کے جوانوں نے حالیہ برسوں میں عام شہریوں کے خلاف زیادتی، جنسی غلامی اور جسمانی تشدد کے متعدد واقعات کیے ہیں۔
یہ مظالم سایو اور انفیلو علاقوں کے کچھ حصوں میں ہوئے ہیں اور ان میں زیادہ تر متاثرین عورتیں اور بچے رہے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقات کے مطابق، بہت سے متاثرین نے بتایا کہ ان کے ساتھ اجتماعی زیادتی، جبری قید اور کئی دنوں سے کئی ہفتوں تک جنسی غلامی کی گئی، جن میں سے کچھ واقعات ناچاہی حمل پر بھی منتج ہوئے۔
فرانسیسی خبررساں ادارے (AFP) کے حوالے سے، اس انسانی حقوق کی تنظیم نے زور دیا ہے کہ ایسے رویے جنگی جرائم اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیے جا سکتے ہیں اور آزادانہ تحقیقات اور ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اورومو لبریشن آرمی اور ایتھوپیائی سرکاری افواج کے درمیان لڑائی ۲۰۱۹ سے شروع ہوئی ہے اور سفارتی کوششوں کے باوجود تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔
رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان لڑائیوں سے سب سے زیادہ عام شہری، خاص طور پر عورتیں اور بچے متاثر ہوئے ہیں، یہاں تک کہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں یا انسانی بحران کا شکار ہیں۔
انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مظالم کا سلسلہ جاری رہنے سے کئی سماجی، سیکیورٹی اور انسانی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
وہ زور دیتے ہیں کہ عالمی برادری کو غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ملزمان کی جوابدہی یقینی بنانی چاہیے تاکہ ایسے سانحات کے دوبارہ ہونے سے روکا جا سکے اور متاثرین کی مدد آسان ہو سکے۔




