جبر و اکراہ کا نتیجہ الٹا نکلتا ہے، حجاب سمیت ہر دینی حکم میں سیرتِ معصومین علیہم السلام نصیحت و ترغیب پر مبنی رہی ہے، جبر پر نہیں

پیغمبرِ اکرم اور امیرالمومنین علیہما السلام نے مکمل اقتدار کے باوجود کسی کو مجبور نہیں کیا
آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کی روزانہ کی علمی نشست بروز سنیچر، 26 جمادی الاول 1448 ہجری کو منعقد ہوئی۔
گزشتہ نشستوں کی طرح اس نشست میں بھی معظم لہ نے حاضرین کے مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات کے جواب عنایت فرمائے۔
دینی امور میں جبر کے حکم سے متعلق ایک سوال کے جواب میں آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے فرمایا کہ حجاب اور پردے سمیت دینی معاملات میں زور زبردستی کا نتیجہ الٹا برآمد ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جبر سے گریز کی صورت میں اگرچہ اثر کچھ دیر سے ظاہر ہو سکتا ہے، لیکن اس کے نتائج زیادہ پائیدار اور بہتر ہوتے ہیں۔
معظم لہ نے اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے زور دے کر کہا کہ پیغمبرِ خدا اور امیرالمومنین صلوات اللہ علیہما اپنے دورِ حکومت میں مکمل قدرت و اختیار کے مالک تھے، مگر کسی ایک موقع پر بھی یہ منقول نہیں کہ انہوں نے لوگوں کو کسی کام پر مجبور کیا ہو۔
انہوں نے پیغمبرِ خدا اور امیرالمومنین علیہما السلام سے مروی معتبر روایات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے عمال اور نمائندوں کو دی گئی ہدایات اور وصیتوں میں صراحت کے ساتھ یہ بات موجود ہے کہ کسی پر دباؤ نہ ڈالا جائے اور کسی کو مجبور نہ کیا جائے۔
آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے تاکید کے ساتھ کہا کہ ایسے مسائل میں اصل راستہ نصیحت، خیر خواہی اور ترغیب کا ہے، کیونکہ یہی وہ مؤثر طریقہ ہے جو خود ائمہ اطہار علیہم السلام لوگوں کے ساتھ برتاؤ میں اختیار فرماتے تھے۔




