ہندوستان

شرح افزائش میں کمی، 2 بچوں کی پالیسی پر نظرثانی کا مشورہ

شرح افزائش میں کمی، 2 بچوں کی پالیسی پر نظرثانی کا مشورہ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ملک میں شرح افزائشِ نسل میں مسلسل کمی کے پیش نظر 2 سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر پابندی اور سزا سے متعلق قوانین پر نظرثانی کی ضرورت ظاہر کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ آبادی پر قابو پانے کے لئے ماضی میں بنائے گئے یہ قوانین بدلتے ہوئے سماجی اور آبادیاتی حالات میں اپنی معنویت کھو سکتے ہیں۔

جسٹس نرسمہا کی سربراہی والی 2 رکنی بنچ نے مہاراشٹر کے اس قانون کی سماعت کے دوران یہ تبصرہ کیا، جس کے تحت 2 سے زیادہ بچے ہونے پر کوئی شخص پنچایت کا انتخاب لڑنے یا عہدے پر برقرار رہنے کا اہل نہیں ہوتا۔ عدالت نے معاملہ 3 رکنی بنچ کو بھیجتے ہوئے سابقہ فیصلوں پر بھی دوبارہ غور کی ضرورت ظاہر کی۔

عدالت کے مطابق ہندوستان میں مجموعی شرح افزائشِ نسل 2003 میں 3 تھی، جو اب گھٹ کر 1.9 رہ گئی ہے۔ اس رجحان کے طویل مدتی اثرات میں بزرگوں کی آبادی میں اضافہ اور کام کرنے کی عمر کے افراد کے تناسب میں کمی شامل ہو سکتی ہے۔ عدالت نے خبردار کیا کہ بدلتے ہوئے آبادیاتی حالات کو نظرانداز کرنے کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button