آیت اللہ العظمیٰ شیرازی: «تسالم» دراصل فقہا کا اجماع ہی ہے، جسے ورع و احتیاط کے سبب لفظِ اجماع کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے
آیت اللہ العظمیٰ شیرازی: «تسالم» دراصل فقہا کا اجماع ہی ہے، جسے ورع و احتیاط کے سبب لفظِ اجماع کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے
آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کا روزانہ کا علمی درس منعقد ہوا۔
اس نشست میں بھی گزشتہ نشستوں کی طرح معظم لہ نے مختلف فقہی مسائل سے متعلق حاضرین کے سوالات کے جوابات دیے۔
آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے فقہی اصطلاحات اور «تسالم» و «اجماع» کے باہمی تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: تسالم حقیقت میں اجماع ہی ہے، لیکن فقیہ ورع، احتیاط اور علمی تقویٰ کے پیشِ نظر، اجماع کا دعویٰ کرنے سے بچنے کے لیے «تسالم» کی تعبیر اختیار کرتا ہے۔
معظم لہ نے مزید فرمایا: یہ طرزِ عمل صاحبِ جواہر اور دیگر بزرگ فقہا کے کلام میں بھی نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔
تسالم اور اجماع کے عملاً یکساں ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا: عمل اور نتیجے کے اعتبار سے تسالم اور اجماع دونوں ایک ہی ہیں، البتہ فقیہ لفظِ اجماع کے بجائے تسالم اس لیے کہتا ہے کہ اجماع کا دعویٰ اس بات کا مفہوم رکھتا ہے کہ حکم تمام فقہا کو شامل ہے، جبکہ ممکن ہے کسی فقیہ کی رائے مختلف ہو جو ذہن میں نہ آئی ہو یا جس کی صراحت نہ کی گئی ہو۔ اسی لیے «تسالم» یا «لا خلاف» جیسی تعبیرات کا استعمال فقہی رائے کے بیان میں ایک طرح کا ورع اور علمی احتیاط شمار ہوتا ہے۔




