شیعہ مرجعیت

آیت‌اللہ العظمیٰ شیرازی: تریاک کی خرید و فروخت اور استعمال، جب "فساد فی الارض" کا سبب بنے، شرعاً حرام اور ناجائز ہے

آیت‌اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کا روزانہ علمی درس بروز ہفتہ، 19 جمادی الاول 1448 ہجری کو منعقد ہوا۔
اس نشست میں بھی گزشتہ نشستوں کی طرح معظم‌لہ نے حاضرین کے مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات کے جوابات دیے۔
آیت‌اللہ العظمیٰ شیرازی نے مضبوط فقہی دلائل اور معتبر روایات، بالخصوص شیخ انصاریؒ کی کتاب "مکاسب” کے آغاز میں منقول حدیثِ شریف کی روشنی میں فرمایا کہ تریاک کی خرید و فروخت اور استعمال کی حرمت کا بنیادی معیار اس کا اس کلیے پر منطبق ہونا ہے کہ "ہر وہ شے جو زمین میں فساد و تباہی کا باعث بنے” حرام ہے۔
معظم‌لہ نے مزید تاکید کی کہ تریاک کا لین دین اور خرید و فروخت اگر معاشرے میں فساد کے کسی سلسلے یا نیٹ ورک کو جنم دے تو شرعاً حرام اور ناجائز ہے۔
انہوں نے اس مسئلے کے دائرۂ کار اور فقہی باریکیوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تریاک کے وہ جزوی اور روایتی استعمالات جو محض علاج کی غرض سے ہوں، مثلاً آنکھ یا کان کے درد کے افاقے کے لیے، شرعاً بلا اشکال ہیں۔ تاہم جب یہ عمل فساد پھیلانے کا ذریعہ بن جائے اور معاشرے کی عمومی صحت کو نشانہ بنائے تو بلاشبہ حرمت کے حکم میں داخل ہوگا۔
آیت‌اللہ العظمیٰ شیرازی نے تریاک کے محدود اور تفریحی استعمال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں صراحت فرمائی کہ معمولی استعمال، جب تک سماجی فساد کے پھیلاؤ تک نہ پہنچے اور عمومی نقصان کی صورت اختیار نہ کرے، شرعاً مشکل نہیں رکھتا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button