دنیا

یومِ نصف النہارِ اول؛ گرینچ لائن عالمی وقت کی بنیاد اور حسابِ زمانہ میں نظم و ضبط کی یاد دہانی

یکم نومبر کو "یومِ نصف النہارِ اول” منایا جاتا ہے۔ اس دن گرینچ لائن کو خطِ صفر طول البلد اور عالمی وقت کی بنیاد قرار دیے جانے کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔ یہ فیصلہ وقت کی پیمائش کے نظاموں اور بین الاقوامی جہاز رانی کو ایک لڑی میں پرونے میں بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔
اس سلسلے میں ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:
نصف النہارِ اول لندن کے علاقے گرینچ سے گزرتا ہے۔ یہ ایک فرضی لکیر ہے جو کرۂ ارض کے خطوطِ طول البلد کی تقسیم کی بنیاد ہے اور زمین کو مشرقی اور مغربی نصف کروں میں بانٹتی ہے۔
اس فرضی نقطے کو صفر درجہ مقرر کیے جانے سے انسانی معاشروں کے لیے ہم آہنگ عالمی وقت کا تعین اور نقشہ سازی کے معیارات طے کرنا ممکن ہوا۔ اس نام گذاری کی تاریخ کا جائزہ بتاتا ہے کہ وقت کی پیمائش کے لیے ایک ہی معیار پر اتفاق، بین الاقوامی آمد و رفت، عالمی تجارت اور درست فلکیاتی حسابات کو منظم کرنے کی جانب انسان کا ایک اہم قدم تھا۔
اناطولیہ نیوز ایجنسی (Anadolu Agency) کے مطابق اس دن کا منایا جانا علمِ جغرافیہ اور فلکیات کی تاریخ پر نظرِ ثانی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ وہ علوم ہیں جنھیں اسلامی انسائیکلوپیڈیاؤں میں بھی خاص مقام حاصل رہا ہے اور مسلم علما مداروں کی پیمائش اور اوقات کے دقیق حساب میں پیش پیش رہے ہیں۔
اسی دوران عرب نیوز (Arab News) نے اس موقع کی کوریج میں اس جانب توجہ دلائی ہے کہ وقت اور جغرافیائی نقاط کی معیار بندی ہی جدید مواصلاتی ڈھانچے، فضائی و بحری نیویگیشن اور آج کی سیٹلائٹ پوزیشننگ ٹیکنالوجیز کی اساس ہے۔
الجزیرہ (Al Jazeera) کی رپورٹ کے مطابق ان اداروں کی سائنسی رپورٹس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے بین الاقوامی معاہدوں سے پہلے مختلف معاشرے اپنے زمانی حسابات کے لیے متعدد اور غیر ہم آہنگ مبدا استعمال کرتے تھے۔ اس سے اقوام کے درمیان علمی، تجارتی اور تقویمی لین دین میں بے شمار دشواریاں پیدا ہوتی تھیں۔
قرآنی تعلیمات اور دینی متون کی روشنی میں شب و روز کا منظم سلسلہ اور اجرامِ فلکی کی دقیق حرکت، نظامِ خلقت میں نظم، حکمت اور سنجیدہ پیمائش کی روشن نشانیاں ہیں۔ وقت کا حساب رکھنا، لمحاتِ زندگی کی قدر کرنا اور عمر کی گھڑیوں سے صحیح فائدہ اٹھانا انسان کی اخلاقی اور تربیتی ذمہ داریوں میں شمار ہوتا ہے۔
لہٰذا یومِ نصف النہارِ اول، اپنے فنی اور علمی پہلوؤں کے علاوہ، منصوبہ بندی، نظم، حسابات میں درستی اور اجتماعی انسانی زندگی کو سنوارنے کے لیے علمی وسائل سے استفادے کی اہمیت کی بھی یاد دہانی ہے۔
وقت کے ان پیمانوں پر توجہ انسان کو اپنے عہد و پیمان پر نظرِ ثانی اور ترقی و کمال کی راہ میں مواقع کے دانش مندانہ انتظام کی طرف مائل کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button