توسل بہ اہلِ بیت علیہم السلام اور زیارتِ مشاہدِ مشرفہ کے لیے استخارہ کی کوئی گنجائش نہیں : آیت اللہ العظمیٰ شیرازی

آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست بدھ، 16 جمادی الاول 1448 ہجری کو منعقد ہوئی۔اس نشست میں بھی، گزشتہ نشستوں کی طرح، معظم لہ نے حاضرین کے مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے استخارے کے فلسفے اور اس کے صحیح ہونے کے معیار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: استخارہ صرف اسی صورت میں جائز اور مفید ہے جب انسان فیصلہ کرنے میں حیرت اور تذبذب کا شکار ہو۔ جبکہ توسل بہ اہلِ بیت علیہم السلام آیۂ شریفہ «وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ»، یعنی "اور خدائے متعال تک پہنچنے کے لیے وسیلہ اور قرب کا راستہ تلاش کرو”، اور اس کے ذیل میں وارد متواتر روایات کی بنیاد پر ایک روشن اور مستحکم امر ہے۔ اس میں کسی حیرت اور تذبذب کی گنجائش نہیں۔معظم لہ نے زیارت اور توسل میں استخارہ جاری نہ ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: امام رضا یا حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت شفا پانے اور حاجتیں پوری ہونے کے لیے کرنا توسل کی واضح مثالیں ہیں۔ ان کے لیے استخارہ کرنا بے معنی اور غلط ہے۔ لہٰذا استخارے کا جواب منفی آنا اس عمل سے رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔آپ نے عام دنیوی امور کو عبادات اور توسلات سے الگ کرتے ہوئے فرمایا: لین دین اور تجارتی امور جیسے دنیوی فیصلوں میں استخارہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، یہ جائز ہے۔ لیکن توسل اور اہلِ بیت علیہم السلام سے روحانی رابطے کے لیے اس کا استعمال بے جا ہے۔




