عراق: تعمیرِ نو کے باوجود مسیحی خاندان وطن لوٹنے سے گریزاں، سکیورٹی اور خدمات کا فقدان

داعش کے قبضے سے صوبہ نینوا اور شہر موصل کو آزاد کرائے ہوئے دس برس بیت چکے ہیں اور کئی مکانات و مذہبی مقامات کی جزوی تعمیرِ نو بھی ہو چکی ہے، لیکن رپورٹوں اور عراقی مسیحی نمائندوں کے بیانات کے مطابق نصف سے زائد بے گھر مسیحی خاندان سلامتی کے خدشات اور عوامی خدمات کی سنگین کمی کے سبب آج تک اپنے آبائی وطن واپس نہیں آ سکے ہیں۔
اس سلسلے میں ہمارے نمائندے کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:
جون 2014 میں دہشت گرد تنظیم داعش نے صوبہ نینوا پر حملہ کر کے موصل پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے نتیجے میں اس علاقے کی مسیحی آبادی کا بڑا حصہ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔
اس دہشت گرد گروہ نے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر تباہ کرنے کے علاوہ تقریباً 30 گرجا گھروں اور مذہبی مراکز کو فوجی اڈوں، تفتیشی مراکز اور بارود سازی کے کارخانوں میں تبدیل کر دیا تھا۔
موصل اور دشتِ نینوا کی بازیابی کا عمل برسوں پہلے مکمل ہو چکا ہے اور قرقوش، برطلہ، تلکیف اور الحمدانیہ جیسے شہروں میں گرجا گھروں اور مکانات کی ظاہری تعمیرِ نو کے منصوبے بھی انجام پائے، مگر یہ اقدامات تنہا بے گھر افراد کا اعتماد بحال کرنے اور انہیں مستقل طور پر واپس لانے میں ناکام رہے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی "مڈل ایسٹ نیوز” نے مقامی ذرائع اور پارلیمانی نمائندوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ مسیحیوں کی واپسی کی راہ میں سب سے بڑا چیلنج مشرقی موصل اور دشتِ نینوا میں غیر رسمی مسلح گروپوں کی مسلسل موجودگی اور ان کا اثر و رسوخ ہے۔

سیاسی کارکنان اور مذہبی اقلیتوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ان مسلح تنظیموں کی موجودگی قانون کی مکمل بالادستی کو مشکوک بنا دیتی ہے اور مقامی باشندوں پر تشویشناک سماجی و سیاسی دباؤ ڈالتی ہے۔ ان کے مطابق محض جغرافیائی آزادی سے پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا، جب تک مرکزی حکومت کے سرکاری سکیورٹی ادارے پورے علاقے پر یکساں کنٹرول نہ سنبھالیں۔
سکیورٹی مسائل کے علاوہ پانی، بجلی اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں کا شدید بحران اور روزگار کے مناسب مواقع کی عدم دستیابی بھی خاندانوں کے آباد ہونے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حالت یہ ہے کہ واپس آنے والے کچھ خاندان بھی ناسازگار معاشی حالات کے باعث دوبارہ ہجرت پر مجبور ہو گئے ہیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بیشتر بے گھر افراد اب بھی عراقی کردستان یا یورپی اور پڑوسی ممالک میں مقیم ہیں۔ ان کی واپسی کے لیے ضروری ہے کہ غیر رسمی گروپ علاقہ خالی کریں، اسلحہ صرف ریاست کے پاس رہے اور معاشی بنیادی ڈھانچے کو ترقی دی جائے۔
اسی تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب قانونی اور سکیورٹی ضمانتیں نہ ہونے کی صورت میں ان تاریخی علاقوں میں مستقل آبادیاتی تبدیلی اور آبادی کے تناسب میں بگاڑ کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔
اس مذہبی اقلیت کے مطالبات اگر یوں ہی نظرانداز ہوتے رہے تو نینوا سے انسانی اور ثقافتی سرمائے کا مستقل انخلا ہو سکتا ہے، جس سے شمالی عراق کے سماجی استحکام کو طویل مدت میں سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔




