افریقہخبریں

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کا انتباہ: سوڈان کی لڑائی اب شہریوں کے خلاف جنگ بن چکی ہے

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سوڈان کے بحران میں عالمی اور علاقائی طاقتوں کے کردار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں جاری فوجی سرگرمیوں کو بے سہارا عوام کے خلاف جنگ قرار دیا۔

اس موضوع کا جائزہ لینے والے ہمارے ساتھی کی رپورٹ دیکھتے ہیں :

سوڈان میں جاری انسانی بحران اور خونریز لڑائیوں نے دنیا کے سب سے بڑے سانحات میں سے ایک کو جنم دیا ہے۔ لڑائی کا دائرہ رہائشی علاقوں تک پھیل جانے سے لاکھوں بے سہارا شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں اور ملک کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔

اس دوران علاقائی کھلاڑیوں اور بیرونی طاقتوں کی غیر ذمہ دارانہ مداخلت پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ بحر احمر کے ساحلوں پر اپنا اثر و رسوخ مستحکم کرنے اور سوڈان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے عالمی طاقتوں اور متحدہ عرب امارات و سعودی عرب جیسے علاقائی کھلاڑیوں کے درمیان مفادات کی رسہ کشی نے جنگ کی آگ کو اور بھڑکا دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک دوٹوک پیغام میں کہا کہ بیرونی عناصر کی پشت پناہی سے سوڈان میں اقتدار کی لڑائی عملاً شہریوں کے خلاف ہمہ گیر جنگ بن چکی ہے۔ انہوں نے تشدد کو بلا شرط روکنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے شہریوں کی جانوں کے مکمل تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل کے لیے محفوظ راستے بنانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے صاف الفاظ میں یہ بھی کہا کہ سوڈان کے اتحاد، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ ایسا اصول ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، اور ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ صرف سوڈانی عوام کو ایک جامع سیاسی عمل کے ذریعے کرنا چاہیے۔

الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق بحران کے مختلف پہلوؤں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوڈان عالمی طاقتوں اور ان کے علاقائی حامیوں کی پراکسی رقابتوں کا میدان بن چکا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ متحارب فریقوں کو ہتھیاروں اور مالی مدد کی فراہمی، اور سوڈانی عوام کے شدید دکھ درد سے غفلت، شہری ڈھانچوں کے مکمل انہدام کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ ایسے نازک حالات میں بیرونی تباہ کن مداخلت کا خاتمہ اور لڑنے والے فریقوں پر عالمی برادری کا فیصلہ کن دباؤ ہی اس اسلامی ملک کو تقسیم سے بچانے اور استحکام کی بحالی کا واحد راستہ ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button