خبریںدنیا

اقوامِ متحدہ کے کمیشن کا اسرائیل پر غزہ اور مغربی کنارے میں جنگی جرائم اور نسل کشی کے اقدامات کا الزام

اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے اسرائیل پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم، بشمول قتلِ عام، ایذا رسانی، تشدد، زنا بالجبر اور دیگر اقسام کے جنسی تشدد کے ارتکاب کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو دانستہ نشانہ بنایا گیا۔

تفصیلات رپورٹ میں ملاحظہ فرمائیں:

کمیشن نے پیر کے روز جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی اپنی نئی رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی حکام اور افواج جنگ بندی کے معاہدے کے بعد بھی غزہ میں نسل کشی پر مبنی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل (ہیبرون) میں اسرائیلی فوجی کارروائی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہاں ایک ہفتے کے دوران تین ہزار سے زائد افراد جبراً بے گھر کیے گئے اور گھروں اور تجارتی املاک کو بڑے پیمانے پر مسمار کیا گیا۔ ترک نے خبردار کیا کہ پورے محلوں کو خالی کرانے کی دھمکیاں نسلی تطہیر کے سنگین خدشات پیدا کرتی ہیں۔

کمیشن کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد مغربی کنارے کی صورتِ حال میں تیزی سے بگاڑ آیا ہے۔ 2008 سے 6 اکتوبر 2023 تک فضائی حملوں میں وہاں چھ فلسطینی شہید ہوئے تھے، جبکہ 7 اکتوبر 2023 سے 30 ستمبر 2026 کے دوران فضائی حملوں میں 254 فلسطینی شہید ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کو ان کی قومیت، نسل، قومی تشخص، جنس اور عمر کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔

کمیشن نے ہلاکتوں، شدید جسمانی و ذہنی نقصان، تشدد اور جنسی تشدد، بشمول تولیدی تشدد، کو بھی فلسطینی شہریوں کے خلاف وسیع اور منظم حملے کا حصہ قرار دیتے ہوئے دستاویزی شکل دی۔ اس کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائیاں اور آبادکاروں کا تشدد ایک مربوط مہم کا حصہ معلوم ہوتے ہیں جو نقل مکانی کا سبب بنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگست 2026 تک مغربی کنارے میں جنوری 2025 سے شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد 34,176 فلسطینی بے گھر ہیں، جو 1967 کے بعد وہاں سب سے بڑی نقل مکانی ہے۔

کمیشن کے چیئرمین سری نواسن مرلی دھر نے کہا کہ مغربی کنارے میں شہریوں کی ہلاکت و زخمی ہونے اور گھروں کی تباہی، نیز غزہ پر اسرائیل کے مسلسل علاقائی کنٹرول، نقصان اور نقل مکانی کے وسیع تر سلسلے کا حصہ ہیں۔ رپورٹ میں فلسطینی اتھارٹی پر بھی تنقید کی گئی ہے کہ وہ مخالف آوازوں کو نشانہ بناتی ہے اور ہلاکتوں کی مؤثر اور غیر جانبدارانہ تحقیقات یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔

کمیشن نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ جولائی 2024 میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے پر عمل کرتے ہوئے فلسطینی علاقوں پر اپنا غیر قانونی قبضہ ختم کرے اور آبادکاروں و بستیوں کو ہٹائے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل فلسطینی املاک کی ضبطی اور قبضے کو واپس لے، ضبط شدہ زمینیں ان کے مالکان کو لوٹائے اور فلسطینی اراضی کو فوجی مقاصد کے لیے مختص کرنے کا سلسلہ بند کرے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button