6 جمادی الاول؛ جنگِ موتہ میں حضرت جعفرِ طیار علیہ السلام کی شہادت

جنگِ موتہ جمادی الاولیٰ 8 ہجری میں پیش آنے والا عہدِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کا ایک اہم معرکہ ہے۔ اس میں حضرت جعفر بن ابی طالب علیہ السلام نے شجاعت و استقامت کی بے مثال داستان رقم کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے چچا زاد بھائی، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے بڑے بھائی اور جناب ابوطالب علیہ السلام کے فرزند تھے۔ آپ کی زندگی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے وفاداری، امیرالمؤمنین علیہ السلام سے محبت اور دینِ خدا کے لیے ایثار و قربانی کی روشن مثال ہے۔
جنگِ موتہ کا پس منظر
تاریخی روایات کے مطابق، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے حضرت حارث بن عمیر ازدی کو مکتوب دے کر بُصریٰ کے حاکم کی جانب روانہ فرمایا، لیکن راستے میں انہیں قتل کردیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد مسلمانوں کا لشکر موتہ کی جانب روانہ ہوا۔ لشکرِ اسلام کی تعداد عموماً 3 ہزار بیان کی جاتی ہے، جب کہ مخالف فوج کی تعداد کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے لشکر کی قیادت کے لئے پہلے حضرت زید بن حارثہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، پھر حضرت جعفر بن ابی طالب علیہ السلام اور ان کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو مقرر فرمایا تھا۔ تینوں سپہ سالار یکے بعد دیگرے شہید ہوئے۔ ان کی شہادت کے بعد جناب ثابت بن اقرم انصاری نے پرچم سنبھالا اور بعدازاں خالد بن ولید نے لشکر کی قیادت کی۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے محبت و وابستگی
حضرت جعفر طیار علیہ السلام کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے آپ کی برادرانہ محبت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے گہری وفاداری ہے۔ دونوں جناب ابوطالب علیہ السلام کے فرزند تھے اور اسلام کی حمایت میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔
حضرت جعفر علیہ السلام نے ہجرتِ حبشہ کے موقع پر نجاشی کے دربار میں اسلام کی مؤثر ترجمانی کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام و حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ واضح کیا۔ بعدازاں جنگِ موتہ میں پرچمِ اسلام کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کردی۔ آپ کی زندگی اس حقیقت کی مثال ہے کہ محبت اور وفاداری کا اظہار محض الفاظ سے نہیں، بلکہ خدمت، عمل اور قربانی سے ہوتا ہے۔

میدانِ موتہ میں شہادت
میدانِ موتہ میں دشمن کے حملے شدید تھے، لیکن حضرت جعفر طیار علیہ السلام پرچمِ اسلام تھامے ہوئے ثابت قدم رہے۔ مشہور تاریخی روایت کے مطابق، جب آپ کا ایک بازو کٹ گیا تو دوسرے ہاتھ سے پرچم سنبھال لیا۔ دوسرا بازو بھی کٹ گیا تو آپ نے پرچم کو سینے سے لگا لیا، تاکہ علمِ اسلام سرنگوں نہ ہو۔ بالآخر اسی حالت میں آپ نے شہادت پائی۔
یہ منظر شجاعت اور وفاداری کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جس میں ایک مجاہد اپنی جان سے بڑھ کر اس امانت کی حفاظت کرتا ہے جو اس کے سپرد کی گئی ہو۔ حضرت جعفر علیہ السلام کی ثابت قدمی اور قربانی کا ذکر اسلامی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جنت میں دو پر عطا فرمائے، جن کے ذریعہ آپ پرواز کرتے ہیں۔ اسی مناسبت سے آپ جعفرِ طیار اور ذوالجناحین کے القاب سے معروف ہوئے۔
حضرت جعفر علیہ السلام کی شہادت کی خبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ تک پہنچی تو آپ کو شدید رنج ہوا۔ روایات میں حضرت اسماء بنت عمیس رضوان اللہ تعالیٰ علیہا اور ان کے بچوں کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی شفقت و دل جوئی کا ذکر بھی ملتا ہے۔ یہ واقعہ خاندانِ شہدا کی خبرگیری اور غم زدہ افراد کی مدد کرنے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
حضرت جعفر طیار علیہ السلام کی شہادت ہمیں شجاعت، ایثار، وفاداری اور حق کے لیے قربانی کا درس دیتی ہے۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے آپ کی برادرانہ نسبت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے وفاداری آپ کی شخصیت کے روشن پہلو ہیں۔ آپ کی سیرت کا پیغام ہے کہ محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام کا حقیقی اظہار حق کی حمایت، دین کی خدمت اور مشکل ترین حالات میں استقامت کے ذریعہ ہوتا ہے۔




