
برطانیہ کی داخلی سلامتی اور انسدادِ جاسوسی ایجنسی MI5 کے سربراہ کین میک کالوم نے اپنی سالانہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی تحریکوں میں شدت آ رہی ہے اور مسلمانوں اور پناہ گزینوں کے مراکز پر دہشت گرد حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
سیکیورٹی جائزے کے مطابق اسلام دشمنی اور مہاجر مخالف سوچ سے جنم لینے والا تشدد MI5 کے زیرِ تفتیش کیسز کا سب سے نمایاں اور تشویشناک رجحان بن چکا ہے، جس نے برطانیہ بھر میں دہشت گردی کے مجموعی خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔
لندن میں MI5 کے ہیڈکوارٹر میں پیش کئے گئے جامع سیکیورٹی جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ تارکینِ وطن کے خلاف شدید ناراضی اور اسلاموفوبیا اب پرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے عملی محرک بن رہے ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انگلینڈ کے مختلف شہروں، خاص طور پر جنوبی ساحلی بندرگاہی علاقوں میں، حالیہ مہینوں کے دوران پناہ گزینوں کے خلاف منظم اور جارحانہ مظاہرے دیکھے گئے ہیں، اور سرکاری اعداد و شمار بھی نسلی و مذہبی بنیادوں پر جرائم میں بے مثال اضافے کی تصدیق کر رہے ہیں۔
روزنامہ "عرب نیوز” کے مطابق برطانوی سیکیورٹی حکام نے انتہائی دائیں بازو کے تشدد کی طرف جھکاؤ کو گزشتہ سال کے کیسز میں سب سے زیادہ تشویشناک رجحان قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نوجوان نسل دوسرے گروہوں کی نسبت انتہا پسندی اور دائیں بازو کی دہشت گردی کی طرف مائل ہونے کے عمل کا زیادہ شکار ہے۔ انٹیلیجنس رپورٹس میں 13 سالہ انتہا پسند لڑکے سمیت انتہائی کم عمر افراد کی تفتیش اور ایک 16 سالہ لڑکے کو مسلمانوں کے سماجی مرکز پر حملے کی منصوبہ بندی کے جرم میں 10 سال قید کی سزا کا ذکر بھی شامل ہے۔
برطانیہ میں شہری اور اقلیتی حقوق کی تنظیموں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ بعض سیاسی دھاروں کی طرف سے نفرت انگیز بیانیے کو معمول بنانے سے مساجد اور مسلمانوں کے کاروبار پر جسمانی اور زبانی حملوں میں براہِ راست اضافہ ہوا ہے۔
ان تنظیموں نے مزید مؤثر احتیاطی اقدامات، نفرت پھیلانے والے آن لائن نیٹ ورکس کی کڑی نگرانی اور اسلامی مراکز کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی بجٹ مختص کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسی رپورٹ کے مطابق MI5 کے سربراہ نے اندرونی اسلاموفوبیا کے علاوہ دیگر سیکیورٹی خطرات، بالخصوص انتہا پسند گروہوں اور دشمن حکومتوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) کے غلط استعمال کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ AI سے جڑے نئے خطرات کی نشاندہی اور ان کا جائزہ لینے کے لیے ایک نیا مرکز قائم کیا جا رہا ہے، تاکہ ڈیجیٹل دہشت گردی اور منظم حملوں کے نئے طریقوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔




