افغانستانتاریخ اسلام

4 جمادی الاول؛ یوم وفات علامہ حیدر قلی سردار کابلی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

تاریخِ علم میں بعض شخصیات اپنی جامعیتِ علمی، وسعتِ فکر اور تحقیقی بصیرت کے باعث کسی ایک خطے یا فن تک محدود نہیں رہتیں۔ علامہ حیدر قلی خان سردار کابلی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی انہی نابغۂ روزگار علماء میں سے تھے، جنہوں نے فقہ، حدیث، علمِ رجال، زبان و ادب، ریاضیات اور تقابلی مطالعہ کے میدان میں اپنی علمی صلاحیتوں کے نقوش ثبت کئے۔

18 محرم 1293 ہجری کو کابل کے محلہ چنداول میں پیدا ہونے والے سردار کابلی نے حصولِ علم کے لئے مختلف شہروں اور علمی مراکز کا سفر کیا۔ لاہور میں قیام کے دوران متعدد زبانیں سیکھیں، جب کہ عراق پہنچ کر نجف اشرف اور کاظمین کے علمی ماحول سے استفادہ کیا۔ انہوں نے محدثِ بزرگ آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا حسین نوری، صاحبِ مستدرک الوسائل، سمیت دیگر اہلِ علم سے کسبِ فیض کیا اور اسلامی علوم میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

سردار کابلی کی شخصیت کا امتیازی وصف ان کی جامعیت تھی۔ عربی و فارسی سمیت متعدد زبانوں سے واقفیت نے انہیں مختلف علمی متون کے مطالعہ اور تقابلی تحقیق کی صلاحیت عطا کی۔ وہ دینی علوم میں مہارت کے ساتھ ریاضیات اور دیگر علمی شعبوں میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کی علمی کاوشوں میں شرح دعائے صباح، قبله‌شناسی اور الأربعون حدیثاً قابلِ ذکر ہیں۔

ان کی تحقیقی خدمات کا ایک اہم پہلو علامہ سید عبدالحسین شرف الدین عاملی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی معروف کتاب المراجعات کا فارسی ترجمہ ہے، جو مناظرات کے نام سے بھی معروف ہوا۔ ان کے علمی آثار میں انجیلِ برنابا کے ترجمہ کا ذکر بھی ملتا ہے۔ یہ کام ان کے تقابلی مطالعے اور مختلف مذہبی متون کی تحقیق میں دلچسپی کی نشان دہی کرتے ہیں۔

سردار کابلی نے اپنی زندگی کا طویل حصہ ایران کے شہر کرمانشاہ میں گزارا، جہاں ان کی علمی و دینی سرگرمیاں جاری رہیں۔ 4 جمادی الاول 1372 ہجری کو ان کا انتقال ہوا۔ وصیت کے مطابق انہیں نجف اشرف منتقل کیا گیا، جہاں وادی السلام میں سپردِ خاک کیا گیا۔

علامہ سردار کابلی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی عصرِ حاضر کے علماء اور محققین کے لئے ایک اہم پیغام رکھتی ہے: علم کی حقیقی عظمت صرف معلومات کی کثرت میں نہیں، بلکہ تحقیق کی دیانت، فکر کی وسعت اور اخلاق کی بلندی میں ہے۔ زبانوں سے واقفیت، اصل مصادر تک رسائی، علمی اختلاف کا منصفانہ مطالعہ اور غیر مستند دعووں سے اجتناب ایک سنجیدہ محقق کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔

علامہ حیدر قلی سردار کابلی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی علمی میراث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ علم جب تحقیق، بصیرت اور اخلاق سے ہم آہنگ ہوتا ہے تو وہ محض انفرادی فضیلت نہیں رہتا، بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے چراغِ راہ بن جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button