دنیا

سفید چھڑی؛ انسانی کرامت ؛ 15 اکتوبر سفید چھڑی کا عالمی دن

ہر سال 15 اکتوبر کو سفید چھڑی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن نابینا اور کم بصارت رکھنے والے افراد کے حقوق، خودمختاری، تحفظ اور مساوی مواقع کی یاد دہانی ہے۔ سفید چھڑی محض راستہ تلاش کرنے کا آلہ نہیں، بلکہ آزادی، خود اعتمادی اور انسانی وقار کی علامت ہے۔ اصل ضرورت ہمدردی کے اظہار سے آگے بڑھ کر ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ہر انسان عزت، تحفظ اور آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

قرآن کریم اعلان کرتا ہے: "وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ” یعنی ’’اور یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی ہے۔‘‘ (سورۂ اسراء، 17:70) یہ کرامت ہر انسان کا بنیادی حق ہے، جو جسمانی صلاحیت یا معذوری سے مشروط نہیں۔ اسی اصول کی عملی وضاحت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے اس فرمان میں ملتی ہے، جو آپ نے مالک اشتر کو لکھا: "فَإِنَّهُمْ صِنْفَانِ: إِمَّا أَخٌ لَكَ فِي الدِّينِ، وَإِمَّا نَظِيرٌ لَكَ فِي الْخَلْقِ؛” یعنی ’’لوگ دو قسم کے ہیں: یا تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں، یا خلقت میں تمہارے جیسے ہیں۔‘‘ (نہج البلاغہ، مکتوب 53)

قرآنی تصورِ کرامت اور علوی تعلیمِ مساوات کا تقاضا ہے کہ نابینا افراد کو محض قابلِ رحم سمجھنے کے بجائے باصلاحیت، خودمختار اور حقوق رکھنے والے انسان تسلیم کیا جائے۔ اسی دینی و اخلاقی ذمہ داری کے تحت سلطان المؤلفین مرجع راحل آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حسینی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی تحریروں میں معذور اور محروم افراد کی خصوصی نگہداشت اور معاشرتی ذمہ داری پر زور دیا۔ اسی طرح مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کے دفتر سے وابستہ فلاحی سرگرمیوں میں ضرورت مند معذور افراد کے لئے وہیل چیئرز کی فراہمی اور بزرگوں، بیماروں اور معذور زائرین کی نقل و حرکت آسان بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ یہ مثالیں یاد دلاتی ہیں کہ دینی تعلیمات کی حقیقی روح خدمتِ خلق اور انسانی مشکلات میں کمی لانے سے ظاہر ہوتی ہے۔

آج معاون ٹیکنالوجی نے نابینا افراد کے لئے تعلیم، معلومات اور روزگار کے نئے امکانات پیدا کئے ہیں، لیکن فٹ پاتھوں پر تجاوزات، کھلے مین ہول، غیر محفوظ سڑکیں، تعلیمی سہولتوں کی کمی اور روزگار میں محدود مواقع بدستور سنگین مسائل ہیں۔ ان مشکلات کا حل محض انفرادی ہمدردی سے نہیں، بلکہ حکومتی ذمہ داری، ادارہ جاتی اقدامات اور معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی سے ممکن ہے۔

عملی تجاویز
1. محفوظ راستے: فٹ پاتھوں سے تجاوزات، موٹر سائیکلیں اور تعمیراتی ملبہ ہٹایا جائے؛ کھلے مین ہول بند کئے جائیں اور محفوظ پیدل گزرگاہیں بنائی جائیں۔
2. قابلِ رسائی عمارتیں: سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں، مساجد اور امام بارگاہوں میں نابینا افراد کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
3. تعلیم و ٹیکنالوجی: بریل، صوتی کتابیں، اسکرین ریڈر اور قابلِ رسائی ڈیجیٹل مواد فراہم کیا جائے۔
4. مساوی روزگار: نابینا افراد کو ان کی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق ملازمت اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع دیے جائیں۔
5. باعزت معاونت: مدد کرنے سے پہلے اجازت لی جائے اور نابینا افراد کی خودمختاری، رائے اور عزتِ نفس کا احترام کیا جائے۔
6. – ادارہ جاتی خدمت: مذہبی و فلاحی ادارے معذور افراد کی تعلیم، علاج، نقل و حرکت اور معاشرتی شمولیت کے لیے مؤثر پروگرام شروع کریں۔

سفید چھڑی کا عالمی دن محض ایک علامتی یادگار نہیں، بلکہ ہمارے دینی شعور، سماجی انصاف اور انسانی ذمہ داری کا امتحان ہے۔ اگر قرآن کا پیغامِ کرامت اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی تعلیمِ مساوات ہماری زندگیوں میں حقیقی طور پر جلوہ گر ہو، تو نابینا افراد کے لیے راستے بھی محفوظ ہوں گے، تعلیم و روزگار کے دروازے بھی کھلیں گے اور معاشرتی رویے بھی زیادہ مہذب ہوں گے۔

انسانی عظمت آنکھوں کی روشنی سے نہیں، انسان کی حرمت کے احترام سے پہچانی جاتی ہے۔ سفید چھڑی کا حقیقی پیغام یہی ہے کہ نابینا افراد کو ہمدردی کے محتاج نہیں، بلکہ مساوی حقوق، محفوظ راستوں، خودمختاری اور باوقار زندگی کے مستحق انسان سمجھا جائے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button