امریکہخبریں

مشرقِ وسطیٰ میں واشنگٹن کی پالیسیوں کے باعث 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی مسلمانوں کا دونوں بڑی جماعتوں سے کنارہ کشی

امریکہ کی مسلم کمیونٹی 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے قریب آتے ہی ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کی کارکردگی پر ناراضی کا اظہار کر رہی ہے اور اپنے انتخابی رویے کو مغربی ایشیا کے حوالے سے امریکہ کی خارجہ پالیسی اور اندرونی شہری مسائل کی بنیاد پر ترتیب دے رہی ہے۔

یہ کمیونٹی جو 11 ستمبر کے واقعات کے بعد امتیازی سلوک میں اضافہ کے سبب زیادہ تر ڈیموکریٹس کی جانب مائل ہو گئی تھی، اب خطے میں جاری تنازعات کی واشنگٹن کی جانب سے مسلسل حمایت اور شہری پابندیوں کے باعث دونوں مرکزی دھاروں سے فاصلہ اختیار کر چکی ہے۔

خبری نیٹ ورک "ویئون” (WION) کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے سلسلہ میں امریکی حکومت کی کارکردگی اور مسلمانوں سے متعلق مسائل پر شدید ناراضی، نیز ڈونلڈ ٹرمپ کے وعدوں پر عدم اعتماد اور ان کی امیگریشن پالیسیوں نے دونوں حکمران جماعتوں پر مسلمانوں کے انحصار میں کمی کا سبب بنی ہے۔

کونسل برائے امریکی اسلامی تعلقات (CAIR) کے سروے کے مطابق اسی کنارہ کشی نے مسلم ووٹروں کے رجحان کو آزاد امیدواروں اور گرین پارٹی جیسی تیسری جماعتوں کی جانب بڑھایا ہے اور ساتھ ہی عوامی عہدوں میں ان کی زیادہ بھرپور موجودگی کو ایک متغیر سیاسی قوت کے طور پر ابھارا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button