یورپ

برطانیہ میں نقاب و برقع پر پابندی کی تجویز؛ کنزرویٹو پارٹی کا یورپ کے سخت گیر قوانین کا جائزہ، اسلام دشمنی بڑھنے کا خدشہ

برطانیہ میں نقاب و برقع پر پابندی کی تجویز؛ کنزرویٹو پارٹی کا یورپ کے سخت گیر قوانین کا جائزہ، اسلام دشمنی بڑھنے کا خدشہ

برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی نے برمنگھم میں اپنے سالانہ اجلاس کے دوران نقاب اور برقع پر پابندی اور محدودیت عائد کرنے کے معاملے کو زیرِ غور لایا۔

اس اجلاس میں چہرہ ڈھانپنے والے لباس کے علاوہ سرکاری اسکولوں میں مسلم بچیوں کے حجاب پر پابندی کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، جس سے اس بات کا امکان ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جماعت مذہبی اقلیتوں کے بارے میں بعض یورپی ممالک کے سخت گیر طرزِ عمل کی طرف بڑھ رہی ہے۔

روزنامہ "دی ٹائمز” کی رپورٹ کے مطابق، کنزرویٹو پارٹی کی شیڈو کابینہ کے وزیرِ انصاف نک ٹیموتھی نے کھل کر چہرہ ڈھانپنے پر تنقید کی اور اعلان کیا کہ ان کی جماعت اس سلسلہ میں یورپ میں نافذ محدودیت والے قوانین کا جائزہ لے گی۔

اس پیش رفت پر ردِ عمل دیتے ہوئے "فیتھ میٹرز” نامی ادارہ کے سربراہ فیاض مغل، جو انتہا پسندی اور اسلاموفوبیا کے خلاف اور بین المذاہب مکالمے کے فروغ کے لیے سرگرم ہے، نے خبردار کیا کہ ایسے مباحث کو ہوا دینے سے مسلمان خواتین نفرت انگیز حملوں اور اسلام دشمنی کی نئی لہر کا پہلے سے زیادہ نشانہ بنیں گی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button