جیمز ہیمبل کے اسلام کی جانب راغب ہونے اور مشرف بہ اسلام ہونے کی روداد

برطانیہ کے معروف بلاگر جیمز ہیمبل کا دینِ مبین اسلام کی طرف مائل ہونا، عقل، اخلاق اور تلاشِ حق کے سنگم کی ایک دلچسپ داستان ہے۔
انہوں نے اسلامی احکام میں پوشیدہ روشن منطق اور گہری حکمت کو اسلام کی کشش اور اپنی زندگی کا رخ بدلنے کا سب سے اہم سبب قرار دیا ہے۔
خبر نیٹ ورک "الجزیرہ” کی رپورٹ کے مطابق، اس برطانوی میڈیا ایکٹوسٹ نے خاندان کے دائرے سے باہر تعلقات کی ممانعت اور خنزیر کے گوشت کی حرمت جیسے احکام کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ ان احکام کے مقاصد کی دقیق وضاحت نے دین کے ڈھانچے کے بارے میں اس کے نظریہ کو یکسر بدل دیا ہے۔
اس برطانوی بلاگر کے بقول، یہ احکام عام تصور کے برخلاف محض پابندیاں نہیں، بلکہ تعلقات کی پاکیزگی کو برقرار رکھنے، انسانی کرامت کی حفاظت اور فرد و معاشرے کی سلامتی کے لیے وضع کردہ منطقی قوانین ہیں؛ ایسے فرامین جو انسان کو ضبطِ نفس اور احساسِ ذمہ داری کی دعوت دیتے ہیں اور اسلام کے اخلاقی نظام کی حکمت کو آشکار کرتے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ضبطِ نفس اور ذمہ داری کی یہ دعوت، استحکامِ خاندان کے لئے ایک جامع نمونہ پیش کرتی ہے جو مغربی معاشروں کی توجہ اسلامی احکام کی بے مثال حکمت کی جانب مبذول کرا رہی ہے۔




