غیر درجہ بندی

ایران میں دواؤں  کی قلت شدید؛ قیمتیں آسمان پر، بلیک مارکیٹ سرگرم

ایران کے سرکاری دوا خانوں میں تقریباً 800 اقسام کی ادویات کی بے مثال قلت اور قیمتوں میں کئی سو فیصد اضافے نے لاعلاج مریضوں کو بلیک مارکیٹ اور ٹیلی گرام گروپس کے منافع خور لین دین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

یہ بحران مالی وسائل کی محدودیت، زرِ مبادلہ کی فراہمی کے مسائل اور معاشی پیامدات کا نتیجہ ہے جس نے شہریوں کی صحت اور جان کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کو بیان کیا ہے جو ہم مل کر دیکھتے ہیں:

میدانی رپورٹس کے مطابق، کثیر الاستعمال اور حیاتیاتی اہمیت کی حامل ادویات ملک کے دوا خانوں سے غائب ہو گئی ہیں اور اس کے برعکس انتہائی بھاری قیمتوں پر غیر رسمی اور آن لائن بازاروں میں فروخت ہو رہی ہیں۔

کینسر اور پارکنسن جیسی مخصوص بیماریوں میں مبتلا مریض اپنے علاج کے کم از کم حصے کے حصول کے لیے سرکاری نرخ سے 10 گنا تک زیادہ ادائیگی پر مجبور ہیں اور اس صورت حال میں جعلی ادویات کی خریداری بھی ان کی صحت کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔

"ریڈیو فردا” کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے ترجمان ہادی احمدی نے ملک میں تقریباً 800 اقسام کی ادویات کے قلت کی فہرست میں شامل ہونے سے متعلق خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ سال 1405 میں ادویات کی قیمت میں اوسطاً 30 سے 70 فیصد اور بعض درآمدی اقسام میں 300 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح خبری ویب سائٹ "خبر آن لائن” کی رپورٹ کے مطابق، اسٹامنوفن کوڈین جیسی بنیادی ادویات کی شدید قلت خام مال کی فراہمی میں شدید پابندی کا نتیجہ ہے۔

اسی سلسلہ میں، ایران کی پارلیمنٹ کے ہیلتھ اینڈ ٹریٹمنٹ کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر حسین علی شہریاری نے بھی بعض ادویات کی قیمت میں 400 سے 500 فیصد اضافے کی تصدیق کی ہے اور مریضوں کے ادائیگی والے حصہ میں 55 سے 75 فیصد تک اضافہ کی خبر دی ہے۔

فوڈ اینڈ ڈرگ آرگنائزیشن کے حکام کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ شدید نقدینگی کا بحران اور درآمد کے لئے درکار زرِ مبادلہ کی عدم فراہمی اس طبی المیہ کی اصل وجہ ہے۔

تاہم، سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر دلالوں کی سرگرمیاں جو کینسر کی حیاتی دوا "سینڈوسٹیٹن” کو 75 ملین تومان یا نایاب ادویات مادوپار اور رٹالین کو روزانہ اور ڈالر سے منسلک نرخوں پر فروخت کر رہے ہیں، موثر نگرانی کے فقدان اور عوام کی حیاتی ضروریات سے بیچولیوں کے ناجائز فائدہ اٹھانے کی عکاسی کرتی ہیں۔

اس صورت حال کا تسلسل خاندانوں کی معیشت پر بھاری دباؤ ڈال رہا ہے اور معاشرے کے محروم طبقات سے علاج تک منصفانہ رسائی کا حق سلب کر رہا ہے۔

اس مسئلہ پر فوری توجہ نہ دینے سے، صحت کے شعبہ میں طبقاتی خلا کو گہرا کرنے کے علاوہ، دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کی زندگی کو ادویات کی تقسیم میں ناانصافی کے سائے میں سنگین اور ناقابلِ تلافی خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button