خبریںہندوستان

ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف منظم امتیاز: ایک دہائی کی پامالیوں پر عالمی رپورٹ کا انکشاف

جنیوا میں قائم ایک حقوقِ انسانی ادارے کی تازہ رپورٹ کی اشاعت نے ہندوستان کی تین سو ملین نفوس پر مشتمل مسلم اقلیت کے خلاف منظم امتیازی سلوک، منظم تشدد اور بنیادی حقوق کی کھلی پامالی کے وسیع اور بے مثال پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

یہ وہ دستاویزات ہیں جو برسرِ اقتدار جماعت کے زیرِ حکومت گزشتہ ایک دہائی کے دوران مسلمانوں کی مذہبی اور شہری زندگی کو درپیش گہرے چیلنجوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اسی موضوع کا جائزہ لیا ہے، آئیے ہم بھی ملاحظہ کرتے ہیں:

ہندوستان کی مسلم برادری، جو اس ملک کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہے، حالیہ برسوں میں بڑھتے ہوئے سلامتی کے دباؤ، شہری حقوق کی بندشوں اور مذہبی آزادی کے مسائل سے دوچار رہی ہے۔

«شہری، مگر غیر مساوی: ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف منظم امتیازی سلوک اور حقوقِ انسانی کی پامالی» کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ نے ۲۰۱۴ء سے ۲۰۲۵ء تک کے حالات و واقعات کی دستاویزی شہادت پیش کی ہے، اور اسے جائزے کے لیے اقوامِ متحدہ کی کونسلِ حقوقِ انسانی اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے سپرد کیا گیا ہے۔

ترکی کے اخبار «ینی شفق» کی اطلاع کے مطابق، جنیوا کے ادارے «آرتے اکیڈمی» اور واشنگٹن کے تحقیقی گروہ «انڈیا ہیٹ لیب» کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ۲۰۲۵ء میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، اسلام دشمن بیانات اور پُرتشدد رویّوں میں دو سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً ۹۷ فی صد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹوں سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ایسے واقعات کی سب سے بڑی تعداد نریندر مودی کی قیادت والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیرِ انتظام ریاستوں میں پیش آئی، اور سیاسی ماحول اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ رویّوں میں اضافے کے درمیان نمایاں تعلق دیکھنے میں آیا ہے۔

ان دستاویزات کا ایک بنیادی محور ہندوستان کا شہریت ترمیمی قانون یعنی CAA ہے، جسے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے حقوقِ انسانی نے بنیادی طور پر امتیازی قرار دیا ہے۔

یہ قانون افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے ۳۱ دسمبر ۲۰۱۴ء سے پہلے آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بودھوں، جینیوں، پارسیوں اور عیسائیوں کے لیے شہریت کا حصول آسان بناتا ہے، لیکن ان ممالک کے مسلمانوں کو اس رعایت سے محروم رکھتا ہے۔

افغانستان کے شیعہ اور ہزارہ، پاکستان کے احمدی اور روہنگیا مسلمان ان گروہوں میں شامل ہیں جو اس سہولت سے فیضیاب نہیں ہو سکتے۔

شہریت ترمیمی قانون کے ساتھ ساتھ قومی رجسٹرِ شہریت یعنی NRC کے منصوبے کے سامنے آنے سے، خصوصاً ریاستِ آسام میں، یہ اندیشے پیدا ہوئے ہیں کہ تاریخی دستاویزات مکمل نہ ہونے کے باعث لاکھوں مسلمانوں کی شہریت چھن سکتی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقات نے بھی مسلمانوں کے مکانوں اور کاروبار کے تعزیری انہدام، جسے «بلڈوزر انصاف» کہا جاتا ہے، اور بڑے پیمانے پر بے گھری کی خبر دی ہے۔

ان اقدامات کے علاوہ، بعض مسلمانوں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جانے، اسکولوں میں بچیوں کے حجاب پر پابندیاں عائد ہونے اور بعض دیگر مذہبی قدغنوں کے سخت ہونے سے ان کے شہری حقوق اور سماجی آزادیوں تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔

ان تمام دستاویزات کا مجموعی نقشہ ہندوستانی مسلمانوں کی صورتِ حال کے بارے میں حقوقِ انسانی کی بڑھتی ہوئی تشویش کو پیش کرتا ہے۔

یہ رپورٹ ان پیش رفتوں کی آزادانہ جانچ، مسلمانوں کے شہری حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین و ذمہ داریوں کی بنیاد پر ان کی مذہبی آزادی کی ضمانت پر زور دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button