مصنوعی ذہانت اکیلے منصوبوں کی کامیابی کی ضامن نہیں، انسانی بصیرت اور قیادت ضروری: ماہرین
مصنوعی ذہانت اکیلے منصوبوں کی کامیابی کی ضامن نہیں، انسانی بصیرت اور قیادت ضروری: ماہرین
بنگلورو میں منعقدہ 18ویں پراجیکٹ مینجمنٹ ساؤتھ ایشیا کانفرنس 2026 میں صنعتی ماہرین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) ملازمتوں، کاروباری ماڈلز اور منصوبوں کے طریقۂ کار کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے، تاہم صرف ٹیکنالوجی منصوبوں کی کامیابی یقینی نہیں بنا سکتی۔ اس کے لئے انسانی بصیرت، مؤثر قیادت، حکمتِ عملی، باہمی تعاون اور عملی نفاذ ضروری ہے۔
پراجیکٹ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (پی ایم آئی) کے زیرِ اہتمام کانفرنس میں جنوبی ایشیا سے 850 سے زائد مندوبین اور 20 سے زیادہ مقررین نے شرکت کی۔ پی ایم آئی جنوبی ایشیا کے مینیجنگ ڈائریکٹر امیت گوئل نے میک کینزی کی 2025 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف 39 فیصد اداروں نے اے آئی کے ذریعے انٹرپرائز سطح پر آپریشنل منافع (EBIT) میں مثبت اثرات ریکارڈ کیے ہیں۔ مقررین نے اے آئی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ اداروں کو منصوبہ بندی، عمل درآمد اور کامیابی کے پیمانوں پر مسلسل نظرِثانی کی ضرورت پر زور دیا۔




