نہج البلاغہ سے متعلق دو کتب کی رسمِ اجرا؛ مہتاب باغ میں علمی و ادبی نشست

لکھنؤ، 2 اکتوبر 2026ء: کتابخانہ علم و دانش، لکھنؤ کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی نہج البلاغہ سے متعلق دو کتب ’’حکمرانی کے آفاقی اصول‘‘ اور ’’نہج البلاغہ اور اردو شعراء‘‘ کی رسمِ اجرا کے سلسلہ میں مہتاب باغ، لکھنؤ میں ایک مختصر علمی و ادبی تقریب منعقد ہوئی۔
تقریب کی صدارت مولانا سید محمد جابر جوراسی مدیر ماہنامہ اصلاح لکھنو نے کی، جبکہ آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کے ہندوستان میں نمائندہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید اشرف علی الغروی اور حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی پرنسپل حوزہ علمیہ غفرانمآب رحمۃ اللہ علیہ لکھنو نے خطاب کیا۔ مقررین نے نہج البلاغہ کی علمی، اخلاقی اور فکری اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے معارف کو عام کرنے اور نئی نسل کو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات سے روشناس کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔

’’حکمرانی کے آفاقی اصول‘‘ میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے مالک اشتر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے نام معروف خط کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے، جس میں حکمرانی، عدل، عوامی حقوق اور معاشرتی ذمہ داریوں سے متعلق اہم رہنما اصول بیان ہوئے ہیں۔ دوسری کتاب ’’نہج البلاغہ اور اردو شعراء‘‘ میں نہج البلاغہ اور اردو شعری روایت کے باہمی تعلق اور اردو شعراء پر اس کے اثرات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
تقریب کی نظامت ڈاکٹر عباس رضا نیر جلال پوری نے انجام دی۔ اس موقع پر علماء، ادباء اور علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی، جن میں مولانا سید ذوالفقار، مولانا مصطفیٰ علی خان ادیب الہندی، مولانا فیروز علی بنارسی، مولانا سید محمد حسنین باقری، مولانا سید تنویر عباس رضوی، مولانا صابر علی عمرانی، مولانا سید محمد حسین رضوی، مولانا کلب عابد خان اور مولانا سید اصطفیٰ رضا سمیت دیگر اہلِ علم شامل تھے۔

تقریب میں نہج البلاغہ کے معارف و تعلیمات کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ انداز میں عام کرنے، اردو زبان و ادب کے ذریعے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی فکری و اخلاقی تعلیمات کو نئی نسل تک پہنچانے اور علمی و ادبی سطح پر اس موضوع پر مزید کام کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔




