
تاریخی مہنگائی، قوتِ خرید میں زبردست کمی اور غریب گھرانوں و پنشنرز پر بڑھتے مالی دباؤ نے ترکی کو گہری سماجی بے چینی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
انقرہ میں ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کی شدید مالی تنگی کے باعث خودکشی کے واقعہ نے اس بحران کو میڈیا میں نمایاں کر دیا اور صدر اردگان کی معاشی پالیسیوں کے خلاف سیاسی و معاشی تنقید کی لہر اٹھ کھڑی ہوئی۔
اس سلسلے میں ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ کریں:
ایندھن، بنیادی اشیائے خوردونوش اور مکان کے کرایوں میں مسلسل اضافہ نے لاکھوں گھرانوں، خاص طور پر ریٹائرڈ افراد کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
سپریم کورٹ کے سامنے پیش آنے والے اس افسوسناک واقعہ نے عوام میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر اوزگور اوزل نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام میں مایوسی انتہا پر ہے اور ترکی کسی بھی وقت سماجی دھماکے سے دوچار ہو سکتا ہے۔
حکمران جماعت انصاف و ترقی پارٹی کے بعض رہنماؤں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور 17 لاکھ سے زائد پنشنرز کی غربت کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
بین الاقوامی رسک جانچنے والے ادارے "وریسک میپل کرافٹ” کے مطابق مہنگائی اور ناہمواری کی وجہ سے ترکی میں احتجاجوں میں اضافے کی شرح ابھرتی معیشتوں میں سب سے زیادہ ہے۔
رائٹرز کے مطابق معاشی تنگی کے خلاف احتجاجوں میں سالانہ اضافہ کے لحاظ سے ترکی عراق کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل مہنگائی، جمود کے ساتھ گرانی اور قوتِ خرید میں کمی نے بڑے پیمانے پر سماجی بے چینی کی راہ ہموار کر دی ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق اس بحران کے اثرات صرف سڑکوں پر احتجاج تک محدود نہیں، بلکہ زندگی سے بیزاری اور اداروں پر اعتماد میں کمی نے نوجوانوں میں نفسیاتی مسائل کو بھی جنم دیا ہے۔
الیانز اور آئی ایم ایف جیسے مالیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ترکی کے غریب طبقے اپنی آمدنی کا 64 فیصد سے زیادہ صرف کھانے اور رہائش پر خرچ کر رہے ہیں، جس سے امیر و غریب کے درمیان فرق بہت بڑھ گیا ہے۔
ماہرین سمجھتے ہیں کہ عارضی اقدامات سے اس مسلسل مہنگائی اور قوتِ خرید کی کمی پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔
اگرچہ حکومت انتخابات تک معاملات کو ٹالنے کی کوشش کر سکتی ہے، لیکن یہ شدید معاشی دباؤ ترکی کے سماجی و سیاسی استحکام کو سخت ترین آزمائش میں ڈال رہا ہے۔




