قومی خودمختاری اور سیکیورٹی چیلنجز سے متعلق مختلف جائزوں کے درمیان عراق میں دو دہائیوں سے زائد امریکی فوجی موجودگی کا خاتمہ اور آخری اڈوں سے انخلا
قومی خودمختاری اور سیکیورٹی چیلنجز سے متعلق مختلف جائزوں کے درمیان عراق میں دو دہائیوں سے زائد امریکی فوجی موجودگی کا خاتمہ اور آخری اڈوں سے انخلا
واشنگٹن اور بغداد کے درمیان 2024 کے معاہدہ کی بنیاد پر امریکی افواج عراق میں اپنے آخری فوجی اڈے خالی کر رہی ہیں اور اس ملک میں دو دہائیوں سے زائد پر محیط مسلح موجودگی کا خاتمہ کر رہی ہیں۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت، جو گزشتہ برسوں کے دوران 4500 سے زائد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے ساتھ همراه رہی ہے، خطے کے سیاسی و سیکیورٹی تعلقات میں ایک سنگِ میل شمار ہوتی ہے۔
اس اقدام پر عراق کے اندر اور باہر مختلف ردعمل اور تجزیے سامنے آئے ہیں۔
ریڈیو فرانس (RFI) کی رپورٹ کے مطابق بعض عراقی گروہوں اور شخصیات نے امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کو قومی خودمختار حاکمیت کے استحکام اور حالتِ اشغال سے نکلنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
اس کے برعکس بعض سیکیورٹی حکام، علاقائی کمانڈروں اور عراقی تجزیہ کاروں نے سیکیورٹی خلا پیدا ہونے اور انٹیلی جنس و لاجسٹک معاونت میں کمی سے شدت پسند سنی گروہ داعش کے سلیپر سیلز کے فائدہ اٹھانے کے امکان سے خبردار کیا ہے۔




