عراقمقدس مقامات اور روضے

شہرِ مقدس کربلا میں خیمۂ عزا برپا؛ لاکھوں زائرینِ حسینی کے استقبال کے لیے مواکب اور خدماتی اداروں کی تیاریاں مکمل

ماہِ محرم الحرام اور سید و سالارِ شہیدان حضرت امام حسینؑ کی عزاداری کے ایام کے آغاز کے ساتھ ہی شہرِ مقدس کربلا سراپا سیاہ پوش اور غم و اندوہ میں ڈوب گیا ہے۔

اس سال بھی گزشتہ برسوں کی طرح روضۂ مبارک امام حسینؑ اور حضرت عباسؑ کے جوار میں درجنوں خدمت اور عزاداری کے مواکب قائم کیے گئے ہیں تاکہ زائرین کی خدمت کا سلسلہ شروع کیا جا سکے۔

اسی روحانی فضا کے ساتھ ساتھ سکیورٹی انتظامات اور سرکاری خدمات کو بھی اعلیٰ ترین سطح تک بڑھا دیا گیا ہے۔ آئیے اس وقت کربلائے معلیٰ کی فضا کے بارے میں ہمارے نمائندے کی خصوصی رپورٹ ملاحظہ کرتے ہیں۔

ہمارے نمائندے نے اس حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی ہے، آئیے مل کر دیکھتے ہیں:

عاشقانِ حسینؑ کے ایامِ دلدادگی قریب آتے ہی کربلا کی گلیوں اور سڑکوں میں سیاہ پرچم اور علمِ عزا ہر سو لہرا رہے ہیں۔

روضۂ مبارک امام حسینؑ اور حضرت عباسؑ کے اطراف وسیع علاقے میں بے شمار مواکب اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ محرم کے پہلے ہی دن سے زائرین کے عظیم اجتماع کی خدمت کر سکیں۔

شدید گرمی کے پیشِ نظر خدامِ حسینی کھانے اور مشہور عراقی چائے کے ساتھ ساتھ ٹھنڈے اور فرحت بخش شربت بھی زائرین کے لیے فراہم کر رہے ہیں۔

محرم کے پہلے عشرے میں بین الحرمین اور اس کے اطراف درجنوں فعال مواکب خدمات انجام دے رہے ہیں۔

سکیورٹی کے شعبے میں بھی فوجی اور پولیس اہلکار کربلا کے داخلی راستوں پر تعینات ہیں اور جدید آلات و وسائل کے ذریعے زائرین کے لیے محفوظ ماحول فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ مقررہ راستوں سے باآسانی آمد و رفت کر سکیں۔

سرکاری ادارے بھی سکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ محرم کے پہلے عشرے کے لیے اپنی خدمات میں نمایاں اضافہ کر چکے ہیں۔

عزاداری کے جلوسوں کی آمد و رفت کو منظم بنانے کے لیے مخصوص راستے متعین کیے گئے ہیں۔ روضۂ مبارک امام حسینؑ اور حضرت عباسؑ کی جانب سے خصوصی گزرگاہیں مقرر کی گئی ہیں تاکہ مختلف عزاداری دستے بغیر کسی رکاوٹ اور تداخل کے اپنے مراسم انجام دے سکیں۔

اس دوران ہر سال کی روایت کے مطابق بڑی تعداد میں ایرانی زائرین بھی کربلا پہنچ چکے ہیں۔

یہ زائرین نہ صرف گنبدِ مطہر کے پرچم کی تبدیلی کی پُروقار تقریب میں شرکت کرتے ہیں بلکہ تاسوعا اور عاشورا تک عزاداری میں بھی شریک رہتے ہیں۔

اس روح پرور اور پُرجوش منظر کا نقطۂ عروج عاشورا کے دن ظہر کے وقت دیکھنے میں آتا ہے، جب دستۂ عزاداریِ طویریج، جو عالمِ اسلام کا سب سے بڑا عزاداری جلوس شمار ہوتا ہے، باب القبلةِ حرمِ سیدالشہداءؑ سے داخل ہو کر جوش و ولولے کے ساتھ حرمِ حضرت ابوالفضل العباسؑ کی جانب روانہ ہوتا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ زائرین کی مسلسل آمد کے پیشِ نظر عتبۂ حسینیہ اور عتبۂ عباسیہ کے تمام صحنوں اور رواقوں میں مختلف ثقافتی پروگرام، مجالسِ خطاب اور متعدد مذہبی تقریبات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ہر سال محرم کے پہلے عشرے میں شہرِ مقدس کربلا دنیا بھر کے مختلف ممالک اور شہروں سے آنے والے لاکھوں مشتاق زائرین کے لیے ایک پُرامن اور روحانی پناہ گاہ بن جاتا

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button