ایران

ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں جھڑپوں اور بدامنی میں اضافہ

ایران کا صوبہ سیستان و بلوچستان حالیہ ہفتوں میں ایک بار پھر مسلح جھڑپوں، ٹارگٹ کلنگ اور جان لیوا حملوں میں اضافے کا مشاہدہ کر رہا ہے۔

بدامنی کی اس تازہ لہر نے صوبہ کے عوام کی سلامتی اور امن و سکون کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

"ڈوئچے ویلے فارسی” کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، ماہرین اور مقامی باخبر ذرائع کا ماننا ہے کہ اس تشدد کی اصل وجہ دیرینہ ناراضگیوں اور محرومیوں کا انبار ہے۔

غربت، بے روزگاری، بنیادی سہولیات کی کمی، امتیازی سلوک اور احساسِ محرومی جیسے مسائل نے سنی انتہا پسند گروہ جیش العدل سمیت مسلح گروہوں کو صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔

دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان واقعات کا علاقائی کشیدگی اور سکیورٹی ڈھانچے کے ایک حصے کی کمزوری کے ساتھ ہم آہنگ ہونا، ان گروہوں کو اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے اور مزید کارروائیاں انجام دینے کا موقع دے رہا ہے۔

تاہم ماہرین اس امر پر زور دیتے ہیں کہ اس بحران کے حل کے لئے عوام کے معاشی مسائل پر سنجیدہ توجہ اور خطے میں حقیقی و پائیدار ترقی کا قیام ناگزیر ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button