افغانستانخبریں

سیاسی و سماجی شخصیات اور شہری اداروں کی جانب سے عالمی برادری سے ہزارہ نسل کشی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

ہزارہ ڈائیسپورا نیٹ ورک نے درجنوں ممتاز سیاسی، مدنی اور انسانی حقوق سے وابستہ شخصیات کے ہمراہ عالمی برادری کے نام ایک کھلے خط میں، انیسویں صدی کے آخر میں ہونے والے وسیع قتلِ عام کو باضابطہ طور پر "ہزارہ نسل کشی” کے عنوان سے تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خط کے دستخط کنندگان نے 1948ء میں منظور شدہ اقوامِ متحدہ کے "انسدادِ نسل کشی و سزا برائے جرمِ نسل کشی کنونشن” کا حوالہ دیتے ہوئے تاکید کی ہے کہ اس تاریخی سانحے کو تسلیم کرنا، امتیازی سلوک کی جڑوں کو سمجھنے، ایسے سانحات کی تکرار کو روکنے اور اس برادری کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک انتہائی اہم قدم شمار ہوتا ہے۔

روزنامہ "8 صبح” میں شائع رپورٹ کے مطابق، خط پر دستخط کرنے والوں نے امتیازی رویوں کے تسلسل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان تلخ واقعات کو 134 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود، آج بھی ہزارہ برادری اور افغانستان کے دیگر شیعہ مسلمانوں کے خلاف جبری ہجرت، جائیدادوں سے محرومی، خودسرانہ گرفتاریوں اور مذہبی پابندیوں کی متعدد رپورٹیں درج ہو رہی ہیں۔

بیانیے پر دستخط کرنے والوں نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کیسز کی آزادانہ دستاویزی تحقیق اور سفارتی دباؤ کے ذریعے املاک پر قبضے، شہری حقوق کی پامالی اور ہزارہ پناہ گزینوں کی خطرناک حالات میں جبری واپسی کو روکا جائے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button