غزہ سے پاراچنار تک مظلوموں کی فریاد، حرمین کے منبر پر خاموشی برقرار

25 ستمبر 2026ء: مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں جاری انسانی بحرانوں کے درمیان حرمین شریفین کے جمعہ خطبات میں مظلوم مسلمانوں کے حق میں کسی واضح اور مخصوص آواز کا نہ اٹھنا ایک اہم سوال بن کر سامنے آیا ہے۔
25 ستمبر کے دستیاب خطبہ خلاصوں کے مطابق مسجد الحرام میں بلند ہمتی، نیکی، امن و اتحاد اور مقدسات کے تحفظ پر زور دیا گیا، جبکہ مسجد نبوی میں آخرت اور جنت کی نعمتیں موضوعِ گفتگو رہیں۔ دستیاب خلاصوں میں غزہ، لبنان، ایران، شام، قطیف، پاراچنار یا بحرین کے مظلوموں کا کوئی واضح اور مخصوص ذکر سامنے نہیں آتا۔
یہ صورتِ حال ایک اہم سوال اٹھاتی ہے: جب امت کے مختلف خطوں میں مسلمان جنگ، بے گھری اور انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہوں تو کیا عالمِ اسلام کے سب سے نمایاں منبروں سے ان کے دکھ کا کم از کم عمومی تذکرہ نہیں ہونا چاہیے؟
حرمین کے خطبات میں امن، اتحاد اور مقدسات کے تحفظ پر گفتگو اپنی جگہ اہم ہے، لیکن امت کے اجتماعی درد اور مختلف خطوں کے مظلوم مسلمانوں کے مسائل بھی اسلامی اخوت، عدل اور انسانی ہمدردی کے دائرے میں آتے ہیں۔
حرمین کے منبر سے کسی سیاسی فریق کی حمایت مقصود نہیں؛ ضرورت ایک ایسی اصولی آواز کی ہے جو ظلم کی مذمت اور مظلوم کی حمایت کرے، خواہ وہ غزہ میں ہو، لبنان میں، شام میں، بحرین، قطیف یا پاراچنار میں۔
مقدسات کی حرمت کے ساتھ مظلوم انسان کی حرمت بھی اسلامی ذمہ داری ہے۔ حرمین کے منبر سے اگر یہ پیغام بلاامتیاز پوری امت تک پہنچے تو اس کی معنوی تاثیر کہیں زیادہ وسیع ہوگی۔




