اسلامی دنیاخبریںشیعہ مرجعیت

خداوند عالم وعد کے خلاف عمل نہیں کرتا لیکن وعید کے خلاف عمل کرنا فضیلت ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کا روزانہ کا علمی جلسہ حسب دستور جمعہ 2 ربیع الاول 1446 ہجری کو منعقد ہوا، اس جلسہ میں بھی گذشتہ جلسوں کی طرح حاضرین کے مختلف فقہی سوالات کے جوابات دیے گئے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے سورہ عنکبوت آیت 57 "ہر انسان موت کا مزہ چکھے گا” کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عالم واقع خارجی میں کچھ لوگوں کے لئے موت شیریں ہے اور کچھ لوگوں کے لئے تلخ ہے، اس آیت میں موت کو ذائقہ سے تعبیر کیا گیا ہے، لہذا جن کے لئے موت شیریں ہے وہ اس آیت میں وعد کے عنوان سے ہے اور جن کے لئے تلخ ہے ان کے لئے وعید کے عنوان سے ہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے فرمایا: وعد اور وعید میں فرق ہے، خداوند عالم وعد کے خلاف عمل نہیں کرتا لیکن وعید کے خلاف عمل کرنا فضیلت ہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے اس سلسلہ میں بعض مفسرین اور علماء بلاغت کی وضاحت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: قرآن کریم کا یہاں پر موت کا ذائقہ سے تعبیر کرنا معقول کی محسوس سے تشبیہ ہے۔ کیونکہ انسان شیریں چیز کا بھی ذائقہ محسوس کرتا ہے اور تلخ چیز کا بھی ذائقہ محسوس کرتا ہے لہذا عالم واقع خارج میں بھی ذائقہ دو قسم کا ہے۔ اس آیت شریفہ میں بھی ذائقہ موت سے تشبیہ دیا گیا اور علماء بلاغت کے مطابق یہاں پر استعمال کیا گیا ہے۔‌

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے مزید فرمایا: لہذا جن کے لئے موت شیریں ہے ان کے لئے ابتدا میں خوشی محسوس ہوتی ہے اور یہ مسئلہ وعد ہے لیکن جن کے لئے موت تلخ ہے ان کا ابتدائی مرحلہ تلخ ہے اور یہ وعید ہے۔

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کے اس علمی جلسہ میں مندرجہ ذیل مباحث بیان ہوئے۔ بعض الفاظ کے ظواہر میں تعارض وتزاحم، سورہ انفال آیت 104 اور 107 کی تفسیر، حکم اور موضوع کی مناسبت کی وضاحت، مستحب نماز اور روزے کے بعض احکام وغیرہ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button