ڈیجیٹل دور میں منبرِ حسینی کو درپیش چیلنجز؛ کربلا میں مرکز مطالعات و تحقیقات آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی کی دینی تبلیغ کے طریقوں میں جدت کی ضرورت پر زور
ڈیجیٹل دور میں منبرِ حسینی کو درپیش چیلنجز؛ کربلا میں مرکز مطالعات و تحقیقات آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی کی دینی تبلیغ کے طریقوں میں جدت کی ضرورت پر زور
ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور ڈیجیٹل و سوشل میڈیا کے پھیلاؤ نے نئی نسل کے ثقافتی اور دینی مواد سے رابطے کے انداز کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے۔
اس صورتحال نے روایتی تبلیغی طریقوں پر نظرِ ثانی اور جدید ذرائع ابلاغ سے استفادہ کی ضرورت کو پہلے سے زیادہ اجاگر کر دیا ہے۔
شیعہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسی تناظر میں کربلائے مقدس میں آیت اللہ العظمیٰ شیرازی کے مطالعاتی و تحقیقی مرکز کی جانب سے "ڈیجیٹل دور میں دینی خطابت اور ممبر حسینی کے چیلنجز” کے عنوان سے ایک مکالماتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔
اس نشست میں آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی کے نمائندہ حجۃ الاسلام شیخ جلال معاش نے حاضرین تک آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی کا سلام پہنچاتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دینی اور ثقافتی مراکز کو عصرِ حاضر کی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں ٹیکنالوجی کے دور میں دینی خطابت اور منبرِ حسینی کو درپیش چیلنجز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بعض تبلیغی میدانوں میں روایتی اور تکراری اسالیب پر انحصار اب کافی نہیں رہا۔
انہوں نے نئی نسل تک دینی پیغامات مؤثر انداز میں پہنچانے کے لئے مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر جدید ڈیجیٹل ذرائع سے استفادہ کی ضرورت پر زور دیا۔
نشست کے دوران شرکاء نے مواد کے استعمال کے بدلتے ہوئے رجحانات، مختصر اور تیز رفتار پیغامات کی طرف عوامی میلان، اور سوشل میڈیا کے الگورتھمز کے افکارِ عامہ پر اثرات جیسے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ منبرِ حسینی کو اپنا مؤثر کردار برقرار رکھنے کے لیے فکری و معنوی گہرائی کو جدید ابلاغی اسالیب کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
نشست کے اختتام پر معاشرے، خصوصاً نوجوانوں، میں فکری، ثقافتی اور دینی تحفظ کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکاء نے اس بات کو اہم قرار دیا کہ ڈیجیٹل فضا کی صلاحیتوں سے دانشمندانہ انداز میں فائدہ اٹھایا جائے تاکہ نفرت انگیزی اور انتہاپسندی کا مقابلہ کیا جا سکے اور دینی و انسانی اقدار کو فروغ دیا جا سکے۔




