
جرمنی میں مقیم درجنوں افغان باشندوں نے اسلامی ممالک کے سماجی کارکنان اور جرمن شہریوں کے ہمراہ برلن میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے برلن کے جامع کلیسا کے سامنے اجتماع کے بعد ژاندارمن مارکیٹ چوک تک مارچ کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالی، خواتین پر تعلیم کی سخت پابندیوں اور مذہبی اقلیتوں کی آزادیوں کے خاتمہ پر فوری توجہ دی جائے۔
روزنامہ ڈوئچے ویلے کی رپورٹ کے مطابق یہ احتجاج طالبان حکومت کے حالیہ اقدامات، بالخصوص کابل میں جامعہ و حوزہ علمیہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محاصرے، تخلیہ اور بندش اور بعض شیعہ فعالین کی گرفتاریوں کے ردعمل میں کیا گیا۔
شرکاء نے ان اقدامات کو شیعہ برادری کی سماجی و دینی حیات کے لئے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے مغربی حکومتوں اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ طالبان کے ساتھ سیاسی روابط منقطع کیے جائیں اور کسی بھی مذاکرات کی بنیادی شرط مذہبی حقوق کا احترام اور امتیازی اقدامات کا خاتمہ ہونی چاہیے۔




