اسلامی دنیاتاریخ اسلام

بخارا کا میر عرب مدرسہ: پانچ صدیوں کا چراغِ علم، تہذیبِ ایران و اسلام کا امین

بخارا کا دینی مدرسہ «میر عرب» تقریباً پانچ صدیوں کی تاریخ رکھنے کے باوجود آج بھی عالم اسلام کے نمایاں ترین علمی و تعمیراتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔اس مدرسے نے وسط ایشیا، قفقاز اور روس کے علاقوں میں اسلامی ثقافت کی ترویج اور برجستہ دانشوروں کی تربیت میں بے مثال کردار ادا کیا ہے۔

یہ تاریخی یادگار، جو یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے، اپنے شاندار طرزِ تعمیر کے باعث ممتاز ہے جس پر ایرانی فن کا گہرا اثر نظر آتا ہے۔

اس عمارت میں قرآن مجید کی سورتوں کی تعداد کے مطابق ایک سو چودہ حجرے تعمیر کیے گئے ہیں۔دینی علوم کے تعلیمی ادارے «مدینہ» کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، اس مدرسے کی تعمیر سن ۱۵۳۶ عیسوی میں مکمل ہوئی تھی اور یہ سابق سوویت دور میں بھی چند گنے چنے مجاز دینی مراکز میں شمار ہوتا رہا۔

مسلمانوں کی متعدد برجستہ شخصیات، بشمول روس کے مذہبی رہنما، اسی مدرسے کے فیض یافتہ ہیں۔علمی روابط کی گہرائی، فقہی مکالمے اور زبانِ فارسی کی مشترکہ میراث نے اس مرکز کو خراسانِ بزرگ کے علمی حلقے اور عالمِ اسلام کے درمیان ایک مستحکم پل بنا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button