دنیا

11 ستمبر: دہشت گردی کے خلاف انصاف، شیعہ حقوق کا تحفظ

11 ستمبر کا سانحہ انسانی تاریخ کے المناک واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ ہزاروں بے گناہ انسانوں کی جانیں گئیں اور اس کے بعد عالمی سیاست اور سلامتی کا منظرنامہ بدل گیا۔ اس سانحہ کی غیر مشروط مذمت ضروری ہے، لیکن کسی دہشت گرد گروہ کے جرم کی بنیاد پر پورے مذہب، قوم یا مسلک کو ذمہ دار ٹھہرانا بھی ناانصافی ہے۔

11 ستمبر کے بعد مسلمانوں کو اسلاموفوبیا اور امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دنیا کے مختلف خطوں میں جنگوں اور سیاسی کشمکش نے عام شہریوں کو بھی متاثر کیا۔

مشرقِ وسطیٰ: انسانی حقوق کا یکساں معیار

مشرقِ وسطیٰ آج بھی سیاسی کشمکش، مسلح تنازعات، بے گھری، معاشی مشکلات اور انسانی بحرانوں سے گزر رہا ہے۔ ان حالات میں کسی ایک فریق کے مفادات کے بجائے انسانی جان، امن اور بین الاقوامی قانون کو معیار بنانا ضروری ہے۔ حکومتوں کی پالیسیوں، مسلح گروہوں کے اقدامات اور عالمی طاقتوں کے کردار کا جائزہ بھی اسی اصول کے تحت ہونا چاہیے۔

ہر بے گناہ شہری کا تحفظ یکساں اہم ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی ملک، مذہب یا مسلک سے ہو۔ اسی غیر جانب دار انسانی معیار کے تحت شیعہ برادری سمیت تمام مذہبی و مسلکی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

شیعوں کے حقوق

شیعہ بھی کئی علاقوں میں دہشت گردی، فرقہ وارانہ تشدد اور مذہبی امتیاز کا سامنا کرتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ:

  • جان و مال کے تحفظ اور فرقہ وارانہ حملوں کی شفاف تحقیقات ہوں؛
  • مساجد، امام بارگاہوں، حسینیہ اور مذہبی مراکز کو مؤثر تحفظ دیا جائے؛
  • مجالس، عزاداری اور پُرامن مذہبی شعائر کی آزادی یقینی بنائی جائے؛
  • شیعہ مخالف نفرت انگیزی اور تشدد پر اکسانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو؛
  • تعلیم، روزگار اور سیاسی و سماجی زندگی میں مساوی شہری حقوق فراہم کئے جائیں؛
  • متاثرین اور ان کے خاندانوں کو انصاف اور قانونی معاونت ملے۔

یہ خصوصی مراعات نہیں بلکہ مساوی شہریت، مذہبی آزادی اور انسانی وقار کے بنیادی حقوق ہیں۔

11 ستمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک ظلم دوسرے ظلم کو جائز نہیں بنا سکتا۔ دہشت گردی کی مذمت کے ساتھ مذہبی نفرت، اجتماعی الزام اور مسلکی امتیاز کو بھی مسترد کرنا ہوگا۔

ریاستوں پر لازم ہے کہ قانون سب کے لئے یکساں نافذ کریں، مذہبی رہنما نفرت کے بجائے مکالمے کو فروغ دیں، میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور عوام اشتعال انگیز و غیر مصدقہ مواد سے گریز کریں۔

آج ضرورت صرف دہشت گردی کی مذمت کی نہیں، بلکہ ایسے انصاف کی ہے جو ہر انسان کے لئے یکساں ہو۔ جس معاشرے میں ایک بے گناہ کی جان، ایک عبادت گاہ کی حرمت اور ایک شہری کی مذہبی آزادی محفوظ ہو، وہی حقیقی معنوں میں پُرامن معاشرہ ہے۔

11 ستمبر کا عہد یہی ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز مزاحمت، ظلم کے خلاف بے خوف آواز، اور شیعوں سمیت ہر مظلوم کے لئے مساوی حقوق اور انصاف۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button