ایمنسٹی انٹرنیشنل کا تہران کے رہائشی علاقوں پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں ممکنہ جنگی جرائم کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا تہران کے رہائشی علاقوں پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں ممکنہ جنگی جرائم کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان 40 روزہ جنگ کے دوران تہران کے گنجان آباد علاقوں میں درجنوں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
تنظیم نے ان جھڑپوں کے وسیع پیمانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جانی نقصان کے علاوہ رہائشی مکانات، شہری کاروباری مراکز اور غیر فوجی عمارتوں کو بھی بڑے پیمانے پر شدید نقصان پہنچا ہے۔
فارسی بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل اگنیس کالامار نے کہا کہ گنجان آباد شہری علاقوں میں ان فوجی حملوں کا طریقۂ کار ممکنہ طور پر جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کو باضابطہ طور پر مدعو کریں، تاکہ تمام فریقوں کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، غیر جانب دارانہ اور آزادانہ تحقیقات کے لئے ضروری ماحول فراہم کیا جا سکے۔




