ثقافت اور فنہندوستان

سچا قلم، تاریخ کی گواہی — اکبر الہ آبادی کے یومِ وفات پر

جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

اکبر الہ آبادی کے یومِ وفات (9 ستمبر 1921) پر ان کا یہ معروف شعر آج بھی اپنے اندر ایک عہد کی آواز اور آنے والے زمانوں کی پیش بینی سموئے ہوئے ہے:

"کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو”

یہ محض طنزیہ شعر نہیں بلکہ قلم کی طاقت، صحافت کی ذمہ داری اور ظلم کے مقابل فکری مزاحمت کا مؤثر استعارہ ہے۔ اکبر نے ’’کمان، تلوار اور توپ‘‘ کو عسکری قوت کی علامت، جبکہ ’’اخبار‘‘ کو خبر، قلم، شعور اور عوامی بیداری کا استعارہ بنایا ہے۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ توپ کے مقابل تلوار نہیں، اخبار پیش کرتا ہے؛ یعنی طاقت کا جواب ہمیشہ طاقت سے نہیں، کبھی سچ، شعور اور آگہی سے بھی دیا جاتا ہے۔

آج مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتِ حال میں یہ شعر غیر معمولی معنویت اختیار کرگیا ہے۔ غزہ، لبنان اور خطے کے دیگر علاقوں میں جب میزائل اور ڈرون تباہی پھیلاتے ہیں تو کیمرہ، قلم اور خبر اس تباہی کی گواہی دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ جنگ کا ایک میدان زمین پر ہے اور دوسرا میڈیا اور بیانیے کی دنیا میں۔ ایک طرف بارود تاریخ رقم کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو دوسری طرف صحافت اس تاریخ کی گواہی محفوظ کرتی ہے۔

شیعہ تاریخ میں اس حقیقت کی سب سے روشن مثال کربلا ہے۔ عاشورا کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبات اور امام زین العابدین علیہ السلام کے بیانات نے ظلم کے مسلط کردہ بیانیے کو چیلنج کیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ تلوار کا معرکہ ختم ہونے کے بعد پیغام اور ابلاغ کا معرکہ شروع ہوا، اور حق کی آواز نے وقت کے جابر اقتدار کو بے نقاب کردیا۔

تاہم آج کے صحافی کے لئے اکبر کا ’’اخبار‘‘ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ خبر اگر تحقیق، دیانت اور صداقت سے محروم ہوجائے تو وہ ظلم کے خلاف ہتھیار بننے کے بجائے خود پروپیگنڈے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

اس لئے اکبر الہ آبادی کے یومِ وفات پر ان کے شعر کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ توپ کے مقابل اخبار ضرور نکالو، مگر ایسا اخبار جو سچ بولے، مظلوم کی آواز بنے، ظلم کو بے نقاب کرے اور تاریخ کو امانت داری کے ساتھ محفوظ رکھے۔

کیونکہ توپ زمینوں کو فتح کرسکتی ہے، مگر سچا قلم دل و دماغ اور تاریخ پر اثر چھوڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button