ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیزی میں شدید اضافہ
ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیزی میں شدید اضافہ
ہندوستان میں فرقہ وارانہ پالیسیوں کی شدت اور انتہا پسند قوم پرست رجحانات کے فروغ نے اس ملک میں مقیم تقریباً 30 کروڑ مسلمانوں کی سلامتی اور انسانی حقوق کے بارے میں گہری تشویش پیدا کردی ہے۔
ہمارے رفیقِ کار کی تحقیقی رپورٹ ملاحظہ فرمائیے:
مذہبی تشدد کی نئی لہر اور نئی دہلی کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے "شاہین خان” اور "نفیسہ خان” نامی دو مسلمان صحافیوں پر حالیہ حملے، جن کا تعلق نیوز چینل پی ایم نیوز 4 (PM News 4) سے ہے، اس ملک میں شہری آزادیوں کی ابتر صورتحال پر خطرے کی گھنٹی بجا چکے ہیں۔
الوفد نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ان صحافیوں کو ساکیت پولیس اسٹیشن میں مذہبی شناخت ظاہر ہونے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اگرچہ دہلی پولیس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کی وجہ سرکاری اہلکاروں کے راستے سے گاڑی نہ ہٹانے کو قرار دیا۔
یہ واقعہ ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی طویل تاریخ کی محض ایک مثال ہے، جن کی آبادی تقریباً 30 کروڑ افراد پر مشتمل ہے۔
سنہ 2014 میں نریندر مودی کی قیادت میں حکمراں جماعت "بھارتیہ جنتا پارٹی” (BJP) کے برسرِ اقتدار آنے اور انتہا پسند قوم پرست نظریے "ہندوتوا” کے عروج کے بعد سے، منظم تشدد، گائے کے تحفظ کے نام پر حملوں — جیسے 2015 میں محمد اخلاق کا قتل — اور فرقہ وارانہ رویوں کی رپورٹوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ بھی پہلے واضح کرچکی ہے کہ نریندر مودی حکومت کی انتخابی زبان نے اسلام دشمن جذبات کو ہوا دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
اس بحران کی سنگینی نئے چشم کشا اعداد و شمار کی اشاعت سے مزید عیاں ہوگئی ہے۔
نفرت انگیزی کی نگرانی کرنے والے مرکز "انڈیا ہیٹ لیب” (India Hate Lab) کے تازہ ترین جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سنہ 2025 عیسوی میں ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیزی سے متعلق ایک ہزار 318 تقاریر اور واقعات درج کیے گئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار سنہ 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد اضافے اور سنہ 2023 کے مقابلے میں 97 فیصد کی چھلانگ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اس رپورٹ کے نتائج کے مطابق، مسلمانوں کو ایک ہزار 156 واقعات میں براہِ راست ان زبانی حملوں اور نفرت انگیز واقعات کا نشانہ بنایا گیا۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان واقعات میں سے ایک ہزار 164 سے زائد ان ریاستوں میں پیش آئے جہاں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی براہِ راست یا اتحاد کی صورت میں حکمرانی کررہی ہے۔
ان چیلنجوں کے تسلسل اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق حکومتی بے اعتنائی کے پیشِ نظر، انسانی حقوق کے اداروں نے عالمی برادری اور اسلامی ممالک سے اس خطرناک رجحان پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔




