تقویٰ اور تزکیۂ نفس بعثتِ انبیاء کا بنیادی پیغام ہے: مولانا رضا حیدر زیدی

لکھنؤ، 4 ستمبر 2026: شاہی آصفی مسجد لکھنؤ میں نمازِ جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی، پرنسپل حوزہ علمیہ حضرت غفران مآبؒ لکھنؤ، کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں مولانا نے تقویٰ الٰہی، فلسفۂ بعثتِ انبیاء اور تزکیۂ نفس کی اہمیت پر گفتگو کی۔
مولانا نے نمازیوں کو تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو اپنی زندگی کا ہر لمحہ اس احساس کے ساتھ گزارنا چاہیے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ انہوں نے اربعین کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امام حسین علیہ السلام کے صدقہ میں سب کو دنیا و آخرت میں حسینی کردار اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
فلسفۂ بعثتِ انبیاء بیان کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے سورۂ حدید کی آیت 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انبیاء علیہم السلام کو کتاب، میزان اور واضح دلائل کے ساتھ اس لئے بھیجا گیا تاکہ انسان معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرے۔ سورۂ احزاب کی آیت 21 کی روشنی میں انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہترین نمونۂ عمل قرار دیا۔
تزکیۂ نفس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ اگر علم کے ساتھ نفس کی پاکیزگی نہ ہو تو علم ہدایت کے بجائے گمراہی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے غرور، تکبر، حسد، جھوٹ اور لالچ کو دل کی آلودگی قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو اخلاقی برائیوں سے دور رہنے اور تواضع و انکساری اختیار کرنے کی تلقین کی۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے امروہہ کے بزرگ عالمِ دین مولانا سید محمد سیادت نقوی طاب ثراہ کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی علمی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے فرزند حجۃ الاسلام مولانا سروش صاحب کے لئے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
آخر میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تقویٰ، تزکیۂ نفس، گناہوں سے حفاظت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کی اطاعت پر ثابت قدم رہنے کی توفیق کی دعا کی۔




