شام

شام میں شیعہ اور علوی شہریوں کے جائیداد سے متعلق معاملات پر مذہبی پابندیاں

شام میں جائیداد کی رجسٹریشن کے شعبہ میں ’’عدمِ ممانعت کا سرٹیفکیٹ‘‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی نئی انتظامی ہدایات کے باعث شیعہ شہریوں اور بعض علوی ریٹائرڈ افراد کے لئے جائیداد کی خرید و فروخت اور رہن رکھنے پر پابندی عائد ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں قانونی پیچیدگیاں، دلالی اور آبادی کے ڈھانچے میں تبدیلی کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، آئیے اسے ملاحظہ کرتے ہیں:

شام میں رہائشی املاک اور جائیداد کی رجسٹریشن کے شعبے میں عائد کی جانے والی نئی انتظامی اور سکیورٹی رکاوٹوں نے ملک کے بعض شہریوں کے لیے اپنی ذاتی املاک میں تصرف کے حوالے سے متعدد مشکلات پیدا کردی ہیں۔

لبنان کے روزنامہ ’’الاخبار‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، سکیورٹی اہلیت کے سرٹیفکیٹ—جسے ’’بلا ممانعت‘‘ یا ’’عدمِ ممانعت کا سرٹیفکیٹ‘‘ کہا جاتا ہے—کا اجرا، جو وکالت ناموں کی تصدیق اور جائیداد کی قانونی منتقلی کے لیے ضروری ہے، اب مخصوص نوعیت کی سختیوں کا شکار ہے۔ ان سختیوں کے باعث بعض علاقوں میں شیعہ شہریوں کے لیے جائیداد کے معاملات عملاً معطل ہوگئے ہیں۔

خبر رساں ویب سائٹ ’’مڈل ایسٹ نیوز‘‘ کے مطابق، وزارتِ خزانہ کے متعلقہ شعبے نئی ہدایات اور سرکلرز کا حوالہ دیتے ہوئے شیعہ مذہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے لیے یہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب مالکان اپنی درخواستوں کے مسترد کیے جانے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کرتے ہیں تو انہیں شہری منصوبہ بندی کی خلاف ورزیوں یا قانونی ابہامات کو درخواست مسترد کیے جانے کی وجہ بتایا جاتا ہے؛ تاہم مقامی باشندے ان وضاحتوں کو امتیازی سلوک اور غیر قانونی پابندیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

مذکورہ پابندیاں خاص طور پر حمص کے مضافات کے شیعہ اکثریتی دیہات، جن میں المزرعہ بھی شامل ہے، اور اسی طرح جنگ کے دوران بے گھر ہونے والے الفوعہ اور کفریا کے باشندوں سے متعلق معاملات میں زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں۔

میدانی رپورٹس کے مطابق، الفوعہ اور کفریا کے باشندے اپنی جائیداد اور رجسٹریشن سے متعلق امور کی پیروی کے لیے دمشق اور ادلب کے مختلف اداروں کے درمیان چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب ان علاقوں میں غیر ملکی جنگجوؤں کے خاندانوں کی آبادکاری نے آبادی کے ڈھانچے میں مستقل تبدیلی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

شیعہ برادری کے علاوہ شام کی علوی برادری سے تعلق رکھنے والے بعض فوجی افسران اور ریٹائرڈ فوجی اہلکار بھی اس اجازت نامے کے اجرا میں رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس صورتِ حال نے جائیداد کے بازار میں جمود پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کی آبادیاتی ساخت میں بتدریج تبدیلی کے خدشات کو بھی تقویت دی ہے۔

شواہد سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سنی مذہب سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کو اس نوعیت کی رکاوٹوں کا سامنا نہیں ہے، جس سے نئی پابندیوں میں مذہبی بنیاد پر امتیاز برتے جانے کا شبہ مزید تقویت پکڑتا ہے۔

قانونی ضوابط اور معیار میں شفافیت کے فقدان نے دلالوں کے استحصال اور رشوت ستانی کے فروغ کے لیے بھی راستہ ہموار کردیا ہے۔ یہاں تک کہ بعض مالکان سے اس سرٹیفکیٹ کے اجرا میں سہولت فراہم کرنے کے لیے دس ہزار ڈالر تک کی بھاری رقم یا جائیداد کی مالیت کا ایک مقررہ فیصد طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

اس غیر منصفانہ صورتِ حال نے شہری اور سول سوسائٹی کے اداروں کو بھی ردِعمل پر مجبور کیا ہے۔ ان اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ضوابط کو باضابطہ طور پر منظرِ عام پر لایا جائے اور متاثرہ شہریوں کے لیے قانونی داد رسی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔

قانون دانوں نے خبردار کیا ہے کہ ان پالیسیوں کا تسلسل شہریوں کے قانونی اور جائز حقِ ملکیت کو متاثر کرسکتا ہے اور معاشرے کے انتظامی و اقتصادی استحکام کو ایک سنگین بحران سے دوچار کرسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button