ملائیشیا سے میانمار روہنگیا مسلمانوں کے پہلے گروپ کی رضاکارانہ واپسی کے شیڈول کا اعلان

ملائیشیا کی حکومت نے میانمار سے تعلق رکھنے والے روہنگیا مسلمانوں کے پناہ گزینوں کی میانمار واپسی کے رضاکارانہ پروگرام کے پہلے مرحلے کو حتمی شکل دینے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے تحت کیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارہ رائٹرز کے مطابق، ملائیشیا کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ 29 ستمبر سے شروع ہوگا، جس میں میانمار کے 1,476 شہریوں کو واپس بھیجا جائے گا جن کی شناخت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
اس منصوبہ کے تحت روہنگیا پناہ گزینوں کی منتقلی کے لیے میانمار کی بحریہ کے جہازوں اور طبی جہازوں کا استعمال کیا جائے گا۔
ملائیشیا کے وزیرِاعظم انور ابراہیم کے مطابق، میانمار کی حکومت مجموعی طور پر 5,000 روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی پر رضامند ہوچکی ہے۔
ملائیشیا کی وزارتِ داخلہ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک کے مختلف حراستی مراکز میں ہزاروں پناہ گزین موجود ہیں، جن کی دستاویزات اور رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 2017ء کے بحران کے بعد 10 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان میانمار سے بے گھر ہوچکے ہیں۔ تاہم میانمار کی فوجی حکومت نے اب تک ان بے گھر روہنگیا مسلمانوں میں سے صرف ایک محدود تعداد کو شہری حیثیت دینے کے لیے تسلیم کیا ہے۔




