سعودی عرب

سعودی عرب میں سائبر کریک ڈاؤن میں شدت، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مخالفین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بڑے پیمانے پر بندش

سعودی عرب میں سائبر کریک ڈاؤن میں شدت، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مخالفین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بڑے پیمانے پر بندش

خطہ میں سیاسی دباؤ میں اضافہ کے ساتھ سعودی عرب کے حکام نے مخالف میڈیا اکاؤنٹس اور سول سوسائٹی کے اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن اور اکاؤنٹس کی بندش کی ایک نئی مہم شروع کر دی ہے۔ یہ کارروائیاں ایکس (X)، یوٹیوب اور ٹیلی گرام جیسے پلیٹ فارمز پر کی جا رہی ہیں۔

لبنان کے روزنامہ الاخبار کے مطابق، یہ مہم ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ریاض کے اثر و رسوخ کے ذریعہ چلائی جا رہی ہے۔ سعودی مرکز اعتدال نے حال ہی میں ٹیلی گرام کے 1200 سے زائد چینلز کو بند کر دیا ہے۔

آزاد میڈیا اداروں، جیسے ریڈیو 98 اور دراویز پلیٹ فارم نے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی سائبر سکیورٹی ادارے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ان کارکنوں کی بڑے پیمانے پر ہیکنگ اور جاسوسی کی کارروائیاں کر رہے ہیں جو حکومتی پالیسیوں اور ویژن 2030 پر تنقید کرتے ہیں۔

اسی طرح یورپی-سعودی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق، ان پابندیوں کی زد میں القسط جیسی تنظیموں کے اکاؤنٹس بھی آئے ہیں، اور یہ آزادیٔ اظہار کے خلاف ڈیجیٹل سطح پر ہونے والے شدید ترین کریک ڈاؤن میں سے ایک ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان اقدامات کو آزاد آوازوں کو خاموش کرنے اور خطے کی رائے عامہ پر ایک من پسند اور سرکاری بیانیہ مسلط کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button