غیر مؤکد مستحبات، ادلۂ سنن میں قاعدۂ تسامح پر مبنی ہیں، جبکہ عملِ مشہور ضعفِ سند کی تلافی کرتا ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کا روزانہ علمی نشست کا سلسلہ منگل، 11 ربیع الاول 1448ھ کو منعقد ہوا۔
اس نشست میں بھی گزشتہ نشستوں کی طرح معظملہ نے حاضرین کی جانب سے مختلف فقہی مسائل کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے۔
آیتاللہ العظمیٰ شیرازی نے بعض افعال کی حرمت اور شرعی احکام کے اثبات کے طریقۂ کار سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرمایا: صرف کسی عمل کے مؤکد مستحب نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حرام ہے؛ بلکہ وجوب اور حرمت جیسے الزامی احکام کے اثبات کے لئے قطعی دلیل ضروری ہے۔
معظملہ نے مستحبات کے اثبات کے اصول کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: غیر مؤکد مستحبات کے بارے میں ادلۂ سنن میں قاعدۂ تسامح کی بنیاد پر عمل کیا جاتا ہے، لیکن واجب اور حرام جیسے الزامی احکام کو اس قاعدے کے ذریعے ثابت نہیں کیا جاسکتا، البتہ اگر مشہور فقہاء نے کسی روایت یا حکم کے مطابق عمل کیا ہو تو ان کا عمل روایت کے ضعفِ سند کی تلافی کرتا ہے، کیونکہ عملِ مشہور ضعفِ سند کو جبران کرتا ہے۔
انہوں نے مزید تاکید فرمائی: غیر الزامی اور غیر مؤکد مستحبات کے اپنے مخصوص احکام ہیں، لہٰذا تمام عناوین اور نسبتوں کو ایک ہی درجے اور یکساں حیثیت کا حامل نہیں سمجھنا چاہیے۔




