ہندوستان

حجاب کے فیصلے پر نظرِثانی کی جائے: مولانا یعسوب عباس

پریاگ راج۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پریاگ راج کے ایک اسکول کی مسلم طالبہ کو یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت دینے کی درخواست مسترد کئے جانے پر آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری و ترجمان مولانا یعسوب عباس نے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ حجاب اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے اور کسی مسلم طالبہ کو حجاب پہن کر اسکول، کالج یا یونیورسٹی جانے سے محض مذہبی لباس کی بنیاد پر نہیں روکا جانا چاہیے۔ انہوں نے ہندوستان کے آئینی ڈھانچے میں مذہبی آزادی کے حق کا حوالہ دیتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ سے فیصلے پر نظرِثانی کرنے کی اپیل کی۔

واضح رہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ درخواست گزار حجاب کو اسلام کی ایسی لازمی مذہبی رسم ثابت کرنے کے لئے کافی مواد پیش نہیں کرسکی جس کی بنیاد پر اسکول کے مقررہ یونیفارم سے استثنا دیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ مذکورہ معاملہ مخصوص اسکول کی یونیفارم پالیسی سے متعلق ہے، اسے پورے ملک میں حجاب پر عمومی پابندی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

فیصلے کے بعد شیعہ مرکزی چاند کمیٹی اتر پردیش کے صدر مولانا سید سیف عباس نقوی سمیت بعض دیگر مسلم رہنماؤں نے بھی عدالت کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے حجاب کو اسلامی احکام کا حصہ قرار دیا ہے، جبکہ بعض سیاسی حلقوں نے یکساں یونیفارم اور تعلیمی اداروں کے نظم و ضبط کو ترجیح دینے کی حمایت کی ہے۔ یوں حجاب، مذہبی آزادی اور تعلیمی اداروں کے ڈریس کوڈ کا معاملہ ایک بار پھر ملک میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button