قرآن و روایاتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی روشنی میں صدقہ و انفاق میں ضرورت مند کی عزتِ نفس کا تحفظ لازمی

اسلام کے مقدس آئین اور قرآنِ کریم کی آیات ہمیشہ صدقہ و خیرات اور ضرورت مندوں کی مدد کی نیک سنت کو زندہ رکھنے پر زور دیتے ہیں، خواہ مدد کرنے والے کے پاس مال کم ہو یا زیادہ۔ تاہم اسلامی تعلیمات میں اس عبادت کے ثواب کو اخلاص، پوشیدہ طور پر انفاق، اور مستحق شخص کی عزت و کرامت اور عزتِ نفس کی حفاظت سے وابستہ قرار دیا گیا ہے، اور احسان جتانے، اذیت دینے اور ریاکاری کے ذریعے نیکی کو ضائع کرنے سے سختی سے خبردار کیا گیا ہے۔
انفاق اور صدقہ دینِ مبینِ اسلام کی نہایت مؤکد تعلیمات میں سے ہے۔ اس کے لئے مال کی کوئی مخصوص مقدار مقرر نہیں کی گئی، تاکہ معاشرے کا ہر فرد، خواہ مال دار ہو یا تنگ دست، اپنی استطاعت کے مطابق اس کارِ خیر میں شریک ہوسکے۔
تاہم اسلامی تعلیمات اور ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات اس حقیقت پر زور دیتی ہیں کہ صدقہ کی حقیقی قدر اس کی مقدار میں نہیں بلکہ نیت کے اخلاص اور اسے ادا کرنے کے طریقے میں ہے۔
اگرچہ صدقہ اور کارِ خیر رات یا دن، علانیہ یا پوشیدہ، ہر وقت انجام دینا باعثِ فضیلت ہے، لیکن پوشیدہ انفاق کو خصوصی فضیلت حاصل ہے۔
اس کی دو بنیادی وجوہ بیان کی گئی ہیں: پہلی یہ کہ پوشیدہ عمل انسان کو ریا اور خودنمائی کی آفت سے محفوظ رکھتا ہے، اور دوسری یہ کہ اس سے محتاج اور ضرورت مند شخص کو شرمندگی اور خجالت سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔
اسی سلسلہ میں سورۂ بقرہ کی آیت 274 میں ان لوگوں کے عظیم اجر کا ذکر کیا گیا ہے جو "الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ” ”جو لوگ اپنے مال رات اور دن، پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس ان کا اجر ہے؛ نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“
تفاسیرِ معتبرہ، بالخصوص تفسیر صافی میں نقل ہوا ہے کہ یہ آیت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی، جو مختلف حالات میں اور خودنمائی سے دور رہ کر انفاق فرمایا کرتے تھے۔
اسی طرح امام محمد باقر علیہ السلام سے کتاب شریف الکافی میں منقول ہے کہ نیکی اور پوشیدہ صدقہ فقر کو دور کرتے ہیں۔
محتاج اور سائل کی عزت و کرامت کا تحفظ اس قدر اہم ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی سیرت سے متعلق بعض روایات میں نقل ہوا ہے کہ جب آپ کسی ضرورت مند کی مدد فرماتے تو عطیہ اسے دروازے کے پیچھے سے عطا فرماتے، تاکہ سائل کو شرمندگی محسوس نہ ہو اور وہ اپنے آپ کو مقروض یا احسان مند نہ سمجھے۔
اس کے علاوہ قرآنِ کریم سورۂ بقرہ کی آیت 264 میں صراحت کے ساتھ فرماتا ہے: "لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَى” یعنی”اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور اذیت دے کر باطل نہ کرو۔“
قرآنِ کریم اس طرح اہلِ ایمان کو متنبہ کرتا ہے کہ کہیں وہ اپنے نیک اعمال، عطیات اور خیرات کو احسان جتانے، طعنہ دینے یا مستحق شخص کو اذیت پہنچانے کے ذریعے ضائع نہ کر بیٹھیں۔
ایک اخلاقی روایت میں نقل ہوا ہے کہ ایک شخص خوشی خوشی امام محمد تقی جواد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی خوشی کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس نے دس ضرورت مندوں کی حاجت پوری کی ہے۔ امام جواد علیہ السلام نے اس کی خوشی کو پسندیدہ قرار دیا، لیکن مذکورہ آیت کی تلاوت فرماتے ہوئے اسے متوجہ کیا کہ یہ خوشی اسی وقت پائیدار اور باعثِ اجر ہوگی جب انسان آئندہ اپنے نیک اعمال کو احسان جتا کر اور اذیت پہنچا کر باطل نہ کرے۔
لہٰذا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انفاق کی اصل روح صرف مال دینا نہیں، بلکہ اخلاص کے ساتھ دینا، مستحق کی عزتِ نفس کی حفاظت کرنا، احسان نہ جتانا، اذیت نہ پہنچانا اور اپنی نیکی کو ریا و خودنمائی سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہی وہ اخلاقی اصول ہیں جو صدقہ کو محض مالی مدد سے بلند کرکے ایک خالص عبادت اور رضائے الٰہی کا ذریعہ بناتے ہیں۔




