ماتمی انجمنیں اور حسینی شعائرمقالات و مضامین

ایامِ محسنیہ؛ مظلومیتِ آلِ محمد علیہم السلام کی یاد اور شعائرِ فاطمی کی تجدید

ایامِ محسنیہ، اہلِ بیت علیہم السلام کی تاریخِ مظلومیت کا ایک نہایت دردناک باب ہیں۔ یہ ایام حضرت محسن بن علی علیہماالسلام کی مظلومانہ شہادت، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مصائب اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی مظلومیت کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ ان کا مقصد محض ماضی کے ایک المناک واقعہ کو یاد کرنا نہیں، بلکہ محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام، تعظیمِ شعائر اور امرِ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زندہ رکھنا بھی ہے۔

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کے بیانات کی روشنی میں ایامِ محسنیہ کو شعائرِ اہلِ بیت علیہم السلام کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ شعائر کسی ایک تاریخی صورت یا مخصوص زمانے تک محدود نہیں ہوتے؛ بلکہ وقت کے ساتھ ایسے طریقے بھی وجود میں آ سکتے ہیں جو عرفاً اہلِ بیت علیہم السلام کی تعظیم، ان کے مصائب کی یاد اور ان سے وابستگی کے اظہار کا ذریعہ بنیں۔ اسی تناظر میں ایامِ محسنیہ کے دوران مجالسِ عزا، ذکرِ مصائب، اظہارِ حزن اور دیگر مظاہرِ سوگ کو شعائرِ فاطمی اور اظہارِ مودّتِ اہلِ بیت علیہم السلام کے طور پر اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

حضرت محسن علیہ السلام کی مظلومیت کا تذکرہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ درِ فاطمہؑ سے وابستہ یہ غم تاریخِ اسلام کے ان المناک واقعات کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے خاندانِ رسالت علیہم السلام کو شدید رنج و الم سے دوچار کیا۔ اسی لئے ایامِ محسنیہ اہلِ ایمان کو صرف گریہ و سوگ کی طرف نہیں، بلکہ غور و فکر، معرفتِ اہلِ بیت علیہم السلام، دفاعِ حق اور تجدیدِ عہدِ ولایت کی طرف بھی متوجہ کرتے ہیں۔

ایامِ محسنیہ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مظلومیتِ اہلِ بیت علیہم السلام کو زمانے کے غبار میں گم نہ ہونے دیا جائے۔ مجالسِ عزا اور دیگر دینی و تبلیغی پروگراموں کے ذریعہ نئی نسل کو تاریخِ اہلِ بیت علیہم السلام، سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، مقام و منزلتِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور معارفِ ولایت سے روشناس کرایا جائے۔ ایسا سوگ جو معرفت پیدا کرے، ایسا مرثیہ جو شعور بیدار کرے اور ایسا آنسو جو کردار کو سنوار دے، درحقیقت عزاداری کی روح ہے۔

حضرت محسن علیہ السلام کا نام صرف ایک مظلوم فرزند کی یاد نہیں، بلکہ مظلومیتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی ایک دردناک علامت ہے۔ ایامِ محسنیہ اسی مظلومیت کو زندہ رکھنے، شعائرِ فاطمی کو فروغ دینے اور دلوں میں محبت و وفاداریِ آلِ محمد علیہم السلام کو تازہ کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔

یہ ایام ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام محض زبان کا دعویٰ نہیں؛ بلکہ ان کے مصائب کو یاد رکھنا، ان کے شعائر کو زندہ کرنا، ان کی سیرت و تعلیمات کو سمجھنا، ان کے فضائل و معارف کو نسلِ نو تک پہنچانا اور اپنی زندگی کو ان کی ہدایات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا بھی اسی محبت اور وفاداری کا تقاضہ ہے۔

ایامِ محسنیہ دراصل محض ایک تاریخی یاد نہیں، بلکہ عہدِ ولایت کی تجدید کا ایک موقع ہیں؛ ایسا عہد کہ مظلومیتِ آلِ محمد علیہم السلام کو فراموش نہیں کیا جائے گا، شعائرِ فاطمی کو زندہ رکھا جائے گا اور محبتِ زہرا سلام اللہ علیہا کو معرفت، وفاداری اور عمل کے ذریعہ نسل در نسل منتقل کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button