افغانستانی مہاجرین کو ایران سے بے دخل کئے جانے کے سنگین نتائج پر انتباہ؛ خواتین اور بچوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا شدید خطرہ
افغانستانی مہاجرین کو ایران سے بے دخل کئے جانے کے سنگین نتائج پر انتباہ؛ خواتین اور بچوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا شدید خطرہ
انسانی حقوق کی تنظیم ہانا نے ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے ایران سے غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن، بالخصوص افغانستانی پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے منصوبے کے تباہ کن نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس ادارہ نے زور دیا ہے کہ پناہ گزینوں کو جبراً واپس بھیجنا، خصوصاً خواتین اور ۱۸ سال سے کم عمر افراد کو، ان کی انفرادی صورتِ حال کا جائزہ لیے بغیر اور قانونی تحفظ کی ضمانت کے بغیر، بچوں کے خاندان سے بچھڑنے، شناخت سے محروم ہونے اور تعلیم سے دور رہ جانے جیسے سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔
روزنامہ 8 صبح کابل کی رپورٹ کے مطابق، تنظیم ہانا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واپس بھیجی جانے والی خواتین اور لڑکیاں معاونتی نظام اور سماجی پشت پناہی کے فقدان کے ساتھ ساتھ صنفی پابندیوں کے باعث مزید سنگین خطرات سے دوچار ہو سکتی ہیں۔
اس تنظیم نے واضح کیا ہے کہ کسی فرد کو محض ’’غیر قانونی تارک وطن‘‘ قرار دینا اس امر کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے کہ اس کی بین الاقوامی تحفظ کی حقیقی ضرورت کا جائزہ لیا جائے۔ کیونکہ کسی غیر محفوظ ماحول میں اچانک واپسی ان افراد کو استحصال اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی وزارتِ داخلہ نے دستاویزات سے محروم لاکھوں تارکینِ وطن کو ملک سے بے دخل کیے جانے کی اطلاع دی ہے۔




