دنیا

6 اگست: ہیروشیما سے آج تک، بے گناہ انسانیت مسلسل بارود کی زد میں

انسانی تاریخ میں بعض دن ایسے ہیں جو صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ثبت ایک دائمی سوال ہیں۔ 6 اگست 1945ء بھی ایسا ہی ایک دن ہے، جب جاپان کے شہر ہیروشیما پر دنیا کا پہلا ایٹمی بم گرایا گیا۔ چند لمحوں میں ایک آباد شہر آگ، دھویں اور موت کے سمندر میں تبدیل ہوگیا۔ لاکھوں انسان لقمۂ اجل بن گئے، ہزاروں خاندان بکھر گئے، اور تباہی کے مہلک اثرات نے آنے والی نسلوں تک انسان کو یہ احساس دلایا کہ جب طاقت اخلاق سے محروم ہو جائے تو ترقی بھی تباہی کا دوسرا نام بن جاتی ہے۔

ہیروشیما کی جلتی ہوئی سرزمین آج بھی خاموش زبان میں دنیا سے سوال کرتی ہے کہ کیا انسان نے اس سانحے سے کوئی سبق سیکھا؟

افسوس کہ اس سوال کا جواب آج بھی پوری جرأت سے "ہاں” میں نہیں دیا جا سکتا۔

دوسری جنگِ عظیم ختم ہو چکی، لیکن جنگی ذہنیت ختم نہیں ہوئی۔ آج ایٹم بم کی جگہ جدید میزائلوں، ڈرون حملوں، کلسٹر بموں اور دیگر مہلک ہتھیاروں نے لے لی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں رہائشی بستیاں، اسپتال، اسکول، عبادت گاہیں اور پناہ گزین کیمپ تک حملوں سے محفوظ نہیں۔ معصوم بچوں کی لاشیں، ماؤں کی سسکیاں اور بے گھر خاندان آج بھی عالمی ضمیر سے سوال کر رہے ہیں کہ آخر انسانیت کا جرم کیا ہے؟

آج اگر ہم اپنے گرد و پیش پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہیروشیما صرف ایک شہر کا نام نہیں رہا، بلکہ ہر وہ سرزمین ہیروشیما بن چکی ہے جہاں بارود، بم اور میزائل بے گناہ انسانوں کی زندگیوں کو نگل رہے ہیں۔ جدید جنگوں میں سب سے زیادہ نشانہ وہ لوگ بنتے ہیں جن کا جنگی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ عورتیں، بچے، بوڑھے اور عام شہری ہی سب سے زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں۔

اسلام ایسے ہر ظلم کی دوٹوک مذمت کرتا ہے۔ قرآن کریم اعلان فرماتا ہے: "جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔” (سورۂ مائدہ: 32)

یہ آیت صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ایک ابدی منشور ہے۔ انسانی جان کی حرمت رنگ، نسل، زبان، قوم اور مذہب سے بالاتر ہے۔ کسی بھی بے گناہ انسان کا قتل ظلم ہے، اور ظلم کبھی مقدس نہیں ہو سکتا، خواہ وہ کسی بھی پرچم، نظریے یا سیاسی مفاد کے نام پر کیا جائے۔

امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے جناب مالک اشتر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے نام اپنے تاریخی فرمان میں ارشاد فرمایا: "لوگ یا تو دین میں تمہارے بھائی ہیں یا خلقت میں تمہارے جیسے انسان۔”

یہ مختصر مگر جامع فرمان آج کے شوریدہ عالمی ماحول میں انسانی حقوق کے سب سے بلند منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔ مکتبِ اہل بیت علیہم السلام انسان کو نفرت نہیں، محبت؛ انتقام نہیں، انصاف؛ اور ظلم نہیں، عدل کا راستہ دکھاتا ہے۔

شہدائے کربلا علیہم السلام نے 14 صدی پہلے ہی کربلا میں انسانی عظمت کو معراج عطا کی اور اپنے خون سے یہ حقیقت ہمیشہ کے لئے ثبت کر دی کہ ظلم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کے سامنے خاموش رہنا اہلِ ایمان کا شیوہ نہیں۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حق، انصاف اور انسانی وقار کی حفاظت کے لئے قربانی دینا ہی حقیقی کامیابی ہے۔

آج جب دنیا کے مختلف علاقوں میں جنگ، محاصرے، میزائل حملے، اجتماعی قتل اور انسانی المیہ مسلسل جنم لے رہے ہیں، تو ہیروشیما کا سانحہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ اگر عالمی طاقتیں انصاف کے بجائے طاقت کی زبان بولتی رہیں تو تاریخ خود کو دہراتی رہے گی۔ امن اسلحے کے انبار سے نہیں بلکہ انصاف، مکالمے، احترامِ انسانیت اور عالمی ذمہ داری کے احساس سے قائم ہوتا ہے۔

6 اگست؛ یوم عہد ہے کہ ہم ہر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں جس کا نشانہ بے گناہ انسان بنے، خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہو۔ مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت صرف سیاسی موقف نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات اور سیرتِ اہل بیت علیہم السلام کا بنیادی تقاضہ ہے۔

ہیروشیما کی راکھ اور آج کے جنگ زدہ علاقوں سے اٹھنے والی آہیں ایک ہی پیغام دیتی ہیں کہ انسانیت کو ایٹمی ہتھیاروں، بموں، میزائلوں اور بارود سے نہیں بلکہ عدل، رحمت، اخلاق اور انسانی وقار کے احترام سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

آئیے، 6 اگست کو صرف ایک تاریخی سانحہ کے طور پر یاد نہ کریں، بلکہ اسے ظلم کے خلاف بیداری، امن کے فروغ، اور انسانیت کے تحفظ کے عہد کی تجدید کا دن بنائیں۔ یہی قرآن کا پیغام، یہی سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ ، اور یہی مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی ابدی تعلیم ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button