برطانوی سفیر کی اربعینِ حسینی کی مشایہ میں شرکت

اپنے ملک کے شہریوں کی جانب سے نیابت اور عراقی عوام کی ایثار و مہمان نوازی کو خراجِ تحسین
اربعینِ حسینی کی عظیم مشایہ ایک بار پھر بین الاقوامی شخصیات اور سفارت کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں کربلائے معلیٰ کی جانب رواں اس روحانی سفر میں انسانی یکجہتی، ایثار اور عالمی اخوت کی درخشاں جھلکیاں نمایاں ہو رہی ہیں۔
یہ عظیم معنوی اجتماع مختلف اقوام کو اسلامی امت کی بے مثال مہمان نوازی، ایثار اور خدمت کے جذبے سے قریب سے آشنا ہونے کا نادر موقع فراہم کر رہا ہے۔
خبر رساں ویب سائٹ "مڈل ایسٹ نیوز” کے مطابق عراق میں برطانیہ کے سفیر عرفان صدیق نے برطانوی سفارت خانے کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ انہوں نے اربعین کی پیدل زیارت میں شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ خطے کی موجودہ غیر معمولی صورتِ حال کے باعث متعدد برطانوی شہری اس سال عراق کا سفر نہیں کر سکے، لہٰذا وہ ان کی جانب سے نیابت کرتے ہوئے اس مقدس مشایہ میں شریک ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی سفیر نے موکب داروں کی بے لوث خدمات اور عراقی عوام کی مثالی مہمان نوازی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجنبی زائرین کے لیے عراقی گھروں کے دروازے کھلے رکھنا امام حسین علیہ السلام کے پیغامِ ایثار، اخوت اور انسان دوستی کا زندہ مظہر ہے۔
عرفان صدیق نے مختلف موکبوں کے خادمین سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر کو بھی غیر معمولی قرار دیا کہ وہ اپنی ذاتی مالی استطاعت سے زائرین کی خدمت اور زیارت کے تمام اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ ان کے بقول، ایثار، خود انحصاری اور بے غرض خدمت کا یہ منفرد جذبہ اربعینِ حسینی کی عظمت اور انفرادیت کو دنیا کے سامنے نمایاں کرتا ہے۔




