خبریںشیعہ میڈیا اور ادارےعراقمقدس مقامات اور روضے

کربلا میں زیارتِ اربعین کے تقدس کی پامالی

حرم امام حسین علیہ السلام میں تفرقہ انگیز نعروں کے بعد بعثہ آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی کے سامنے کشیدگی

گزشتہ چند برسوں سے عظیم مشایۂ اربعین کے ایام میں شہرِ مقدس کربلا میں بعض ایرانی جان‌فدایان اور آتش بہ اختیار گروہوں کی جانب سے ایسے اقدامات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں جنہیں زیارتِ اربعین کے تقدس اور مذہبی ماحول کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین واقعہ میں بعثہ آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کے سامنے پیش آنے والی جھڑپ کی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد مختلف حلقوں میں اس پر ردِعمل سامنے آیا ہے۔

شیعہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اربعین کی مشایہ کے دوران بعض ایرانی جان‌فدایان اور آتش بہ اختیار گروہوں سے وابستہ افراد نے بعثہ (دفتر) آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی کے سامنے سے گزرتے ہوئے سیاسی اور اشتعال انگیز نعرے لگائے۔

رپورٹ کے مطابق، اس اقدام پر وہاں موجود کربلا کے مؤمنین، متدین شہریوں اور آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی کے مقلدین نے احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان پہلے تلخ کلامی اور بعد ازاں محدود نوعیت کی ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

شیعہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق، عراقی پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے حالات پر قابو پایا اور کشیدگی کا خاتمہ کرایا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حرمِ مطہر امام حسین علیہ السلام اور شہرِ مقدس کربلا میں اس نوعیت کے واقعات اور مراجعِ عظامِ تقلید کے احترام کے منافی سمجھے جانے والے اقدامات کے بار بار پیش آنے سے زائرینِ اربعین کے درمیان کشیدگی اور حاشیہ آرائی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، کربلا کے مؤمنین اور متدین عوام متعدد مرتبہ متعلقہ حکام سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ ان منظم سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں، تاکہ زیارتِ اربعین کے تقدس، شہرِ مقدس کربلا کے مذہبی ماحول اور مراجعِ عظامِ تقلید کے احترام کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button